اسرائیلی فوج کے مطابق وہ اتوار کو غزہ میں مقررہ فائر بندی پر عمل درآمد کی تیاری شروع کر چکی ہے۔ دوسری جانب حماس تنظیم کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والے افراد کی فہرستیں تبادلے کے ہر دن سے پہلے جاری کی جائیں گی۔
ہفتے کے روز جاری بیان میں حماس نے مزید کہا کہ یہ نکتہ معاہدے میں طے پایا ہے۔
تنظیم کے مطابق اسرائیلی یرغمالیوں کی آزادی کا میکنزم اسرائیل کی جانب سے رہا کیے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد پر منحصر ہو گا۔
ادھر اسرائیل نے قیدیوں کی حوالگی کے مقامات پر تیاری مکمل کر لی ہے۔ ان میں کرم ابو سالم گزر گاہ (غزہ کی پٹی کے انتہائی جنوب مشرق میں) ، رعیم کا اڈا (دیر البلح کے مشرق میں غزہ کی پٹی کے باہر) اور ایرز گزرگاہ (غزہ پٹی کے شمال میں بیت حانون گزرگاہ) شامل ہے۔
البتہ اسرائیلی حکام نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر جشن منانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
کل جمعے کے روز جاری سرکاری بیان کے مطابق خوشی منانے کے کسی بھی عوامی مظاہرے کو روکنے کے لیے اقدامات کر لیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 42 روز پر مشتمل معاہدے کے پہلے مرحلے میں اسرائیل کے 33 یرغمالیوں کو آزاد کیا جائے گا۔ کل اتوار کو پہلے روز 3 یرغمال اسرائیلی فوجی خواتین کو رہا کیا جائے گا۔ اسی طرح ساتویں روز 3 مزید فوجیوں کو رہا کیا جائے گا۔
البتہ چودھویں روز 4 ، اکیسویں روز 3 اور پھر اٹھائیسویں اور پینتیسویں روز 3 ، 3 یرغمالیوں کو آزاد کیا جائے گا۔
آخری ہفتے میں 12 اسرائیلی قیدیوں کے علاوہ 10 برس سے یرغمال ہشام السید اور افرا منگسٹو کو رہا کیا جائے گا۔
اس کے مقابل اسرائیل کی وزارت انصاف نے 737 فلسطینی اسیروں کے ناموں کی فہرست جاری کی ہے جن کو فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے دوران میں آزاد کیا جائے گا۔
تاہم وزارت نے بتایا ہے کہ ان فلسطینیوں کو اتوار کو سہ پہر چار بجے سے پہلے رہا نہیں کیا جائے گا۔
وزارت انصاف کے مطابق فہرست میں حماس اور اسلامی جہاد کے ارکان شامل ہیں۔ ان میں بعض عمر قید کاٹنے والے افراد بھی شامل ہیں جن کو قتل جیسے جرائم میں سزا سنائی گئی تھی۔
بظاہر اس فہرست میں 64 سالہ فلسطینی رہنما مروان البرغوثی کا نام شامل نہیں ہے۔ وہ اسرائیل کی حراست میں موجود اہم ترین قیدیوں میں سے ہیں۔ بہت سے فلسطینی البرغوثی کو مستقبل میں صدر کے عہدے کے لیے نمایاں ترین امیدوار کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
معلوم رہے کہ حماس نے فائر بندی کے کسی بھی معاہدے کے ضمن میں البرغوثی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اسرائیلی عہدے داران نے اس امکان کو مسترد کر دیا۔
-
جنگ بندی کے فوری بعد پٹی کے تمام گورنریوں میں اہلکار تعینات کرینگے: غزہ کی وزارت داخلہ
جنگ بندی کے بعد غزہ کی پٹی پر کون حکومت کرے گا، یہ معاملہ ابھی ابھام کا شکار ہے ...
مشرق وسطی -
غزہ: جنگ بندی معاہدے سے ایک دن قبل ہی فیلڈ میں امن قائم کرنے پر اتفاق
ہفتے کی صبح سے غزہ پر مسلسل اسرائیلی بمباری کے باوجود ایسا لگ رہا ہے کہ جنگ بندی ...
مشرق وسطی -
غزہ میں جنگ بندی اتوار صبح ساڑھے آٹھ بجے شروع ہوجائے گی: قطر
غزہ میں 15 ماہ کی خونریز جنگ کے بعد سیکڑوں ہزاروں فلسطینی جنگ بندی کے منتظر ہیں۔ ...
مشرق وسطی