اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے جنگ بندی کے پہلے ہی روز جارحانہ بیان میں کہا ہے کہ جب تک جنگجو گروپ حماس کا غزہ میں اقتدار باقی ہے ، مشرق وسطیٰ غیر مستحکم رہے گا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے یہ بات اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہی ہے۔
اسرائیل میں یہ احساس شدت پکڑ رہا ہے کہ جنگ کا خاتمہ اہداف کے حصول کے بغیر ہونے جا رہا ہے، جو حکومت کی سیاسی ساکھ اور قائدانہ صلاحیتوں بشمول فیصلہ سازی پر بڑا سوال بن جائے گا۔
اس لیے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دونوں نے جنگ بندی کے پہلے ہی روز جنگ بندی سے ہٹ کر اگلے عزائم کی نشاندہی کرنا شروع کر دی ہے۔
وزیر خارجہ اسرائیل نے کہا 'اگر حماس غزہ میں برسر اقتدار رہتی ہے تو علاقائی سطح پر عدم استحکام مسلسط رہے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں اپنی طویل جنگ کے لیے طے شدہ تمام اہداف حاصل کرنے کا پابند ہے اور اس کے لیے گہری وابستگی رکھتا ہے۔ انہی اہداف میں حماس کی غزہ میں حکومت اور اس کی جنگی صلاحیت کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ 'اسرائیل حماس سے چھٹکارا پانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ تاہم اسرائیل نے کافی پیش رفت کی ہے۔ حماس دہشت گرد فوج کے بجائے ایک گوریلا گروپ میں تبدیل ہوگیا ہے۔'
انہوں نے بین الاقوامی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا 'اگر بین الاقوامی برادری مستقل جنگ بندی چاہتی ہے تو اسے جنگ بندی معاہدے میں حماس کی حکومت اور جنگی قوت دونوں کو شامل کرنا چاہیے۔'
وزیر خارجہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے پر عمل کے پہلے ہی دن یہ بات کر کے جنگ بندی معاہدے کو نئے سرے سے لکھنے کا مطالبہ عالمی برادری سے کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا 'ہم یہ سب کچھ ایک معاہدے کے تحت حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران ہونے والے مذاکرات میں ہونا چاہیے۔'
اس سوال پر کہ اسرائیلی عوام کو یہ خوف ہے کہ جنگ بندی معاہدہ ٹوٹ جائے گا اور اسرائیلی قیدی غزہ سے واپس نہیں آسکیں گے۔ وزیر خارجہ نے اصرار کر کے کہا 'دوسرے مرحلے کی طرف پیش قدمی اسرائیلی جنگ کے اہداف کی ایک شرط ہے۔ ہم سب سے پہلے اپنے قیدیوں کی رہائی چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ پہلے مرحلے کے مکمل ہونے کے بعد دوسرا مرحلہ خود بخود شروع نہیں ہوجائے گا۔'
'اس کو خودبخود دوسرے مرحلے پر منتقل کرنا حماس کی خواہشات و مطالبات کو قبول کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی جنگ کے مقاصد کو حاصل کرنا ہے اور ہم اس کے لیے مذاکرات کریں گے۔ یہ ازخود نہیں ہونے دیں گے۔'
-
غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا نفاذ، جنگی مستقبل کیا ہوگا؟
غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔ تقریباً ساڑھے 15 ماہ کی اس ...
مشرق وسطی -
جنگ بندی شروع: غزہ کے لوگ مسرور، سڑکوں پر جشن
بعض لوگ خوش اور بعض اپنے عزیزوں کی جدائی پر صدمے کا شکار
مشرق وسطی -
غزہ : جنگ بندی کے پہلے دن بھی بمباری ، شہداء کی تعداد 46913 ہوگئی
غزہ کی وزارت صحت نے اتوار کے روز جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ ...
مشرق وسطی