غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا نفاذ، جنگی مستقبل کیا ہوگا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔ تقریباً ساڑھے 15 ماہ کی اس تباہ کن جنگ کے بعد جنگ بندی ہونے پر ہر طرف خوشی کا اظہار ہے۔ عالمی برادری بھی اور بین الاقوامی قیادتیں نہ صرف اس کی پذیرائی کر رہی ہیں بلکہ بعض سطحوں پر اس کا کریڈٹ لینے میں بھی مسابقت کا ماحول ہے۔

لیکن اسرائیل میں معاملہ تقسیم کا شکار ہے۔ عوامی سطح پر اور اسرائیلی قیدیوں کی غزہ سے رہائی ہونے کی امید پر ان کے اہل خانہ میں خوشی کا غیرمعمولی ماحول ہے جبکہ نیتن یاہو حکومت کی بےدلی اور نیتن یاہو کے انتہا پسند اتحادیوں کی سخت مایوسی و پریشانی نے اسرائیل کو جنگی اور سیاسی اعتبار سے ہی نہیں سماجی اعتبار سے بھی مزید تقسیم کر دیا ہے۔

جنگ بندی کا یہ معاہدہ بظاہر تین مراحل پر مبنی ہے۔ لیکن عملدرآمد میں جس طرح تدریج کا پہلو پیش نظر رکھا گیا ہے، اس سے عملی طور پر اس معاہدے کے کئی مراحل میں بٹ جانے کا امکان بھی موجود ہے۔

معاہدے کی کامیابی اور جنگی خاتمے کا بظاہر امکان دونوں فریقین پر ہے۔ لیکن عملدرآمد کی شروعات سے پہلے ہی جس طرح کا ماحول اسرائیل میں شدت اختیار کیے ہوئے ہے اس سے نہیں لگتا کہ جنگ بندی کو قائم رکھنے کی مخالف قوتیں آئندہ آنے والے وقتوں میں ناکام رہیں گی۔

جیسا کہ قیدیوں کی رہائی کی پہلی کھیپ سے بھی پہلے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کھلے اور جارحانہ انداز میں اعلان کر دیا ہے کہ جنگ بندی عارضی ہوگی۔

اس عارضی جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ لامحالہ حماس اور دوسری فلسطینی مزاحمتی تحریکیں بھی اپنا بچاؤ، دفاع اور حق زندگی استعمال کرنے کے لیے ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں رہیں گی۔ جس سے صاف لگتا ہے کہ مستقبل میں جنگ سے نجات کے لیے ابھی مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔

چھ ہفتوں کے معاہدے پر اتوار کی صبح سوا گیارہ بجے سے عمل سے اسرائیلی بستیوں میں بھی کافی پرجوشی ہے۔ لیکن سوال یہی ہے کہ آنے والے دنوں پر کیا اثرات ہوں گے۔

کیونکہ اسرائیل میں حکومتی و سیاسی سطح پر جنگ کی خواہش اسرائیلی فوج کے مقابلے میں بھی نسبتاً زیادہ نظر آتی ہے۔ یہ بلاوجہ بھی نہیں ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں اپنے مقاصد کے حصول میں تقریباً ساڑھے ٍ15 ماہ کی جنگ کے دوران وہ کامیابی نہیں مل سکی ہے، جو نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کے خوابوں میں موجود تھی۔

غزہ میں اسرائیلی قیدی بالآخر حماس کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد ہی رہا ہو رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ جس فریق سے معاہدہ کیا جا رہا ہے اس کی موجودگی بھرپور ہے۔ تیسرا ہدف بھی کہ اسرائیل کے لیے یہ خطرہ باقی نہ رہے کہ غزہ پر حماس کی حکمرانی رہے اور حماس اسرائیل کے لیے خطرہ بنی رہے ابھی تک برقرار ہے۔

ان تینوں عدم کامیابیوں کا اثر نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل اور ان کی کمزور پڑ چکی اتحادی حکومت میں شامل دوسرے رہنماؤں کی سیاست پر خطرناک ہوگا۔ اسی لیے وہ اس جنگ بندی معاہدے کو تباہی کا نام دے رہے ہیں۔

یہ معاہدہ بالآخر ایک مستقل جنگ بندی کی شکل میں ڈھلنا ہے۔ لیکن ان سیاسی ضرورتوں کی تنگنائیوں سے گزر کر ہی ایسا ممکن ہو سکے گا۔

سیموئل روزنر 'جیوش پیپل پالیسی انسٹیٹیوٹ' میں ایک سینیئر فیلو ہیں۔ ان کا 'العربیہ' سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے 'اس جنگ بندی معاہدے کے بعد بہت سارے اسرائیلی اس بحث میں شامل ہو گئے ہیں کہ کیا یہ اسرائیل کی طرف سے غیرذمہ دارانہ کوشش ہے کہ اس نے اس معاہدے کو قبول کیا ہے۔ جبکہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد اس جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کر رہی ہے۔ ان میں غزہ کے اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ بطور خاص شامل ہیں۔'

فلسطینی نیشنل انیشی ایٹو' پی این آئی' کے رہنما مصطفیٰ برغوثی نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے کہا 'فلسطینیوں کی طرف سے دیکھا جائے تو وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی نسل کشی رک گئی ہے اور غزہ کی پٹی پر جاری تباہی کا سلسلہ اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ جو ایک اجتماعی سزا اور نسلی صفائی کی شکل میں غزہ میں پچھلے 15 ماہ سے جاری تھا۔ ہمارے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ تباہی رک جائے گی۔'

کیا جنگ بندی پائیدار رہ سکے گی؟

یقیناً جنگ بندی معاہدہ تو اس امر کا عہد ہے کہ جنگ بندی مستقل ہوگی اور جنگ کا خاتمہ ہوگا۔ تاہم ماہرین کو ابھی بہت سارے شبہات ہیں۔ جیسا کہ اسرائیل اور حماس دونوں ایک دوسرے کو معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا الزام دیتے ہیں اور ساتھ کہتے ہیں کہ لڑائی پہلے کی طرح جاری رہے گی۔

ایک جانب سے بھی حقائق کو سمجھنے میں غلطی ہوگئی اور غلط جمع تفریق کر لی گئی تو یہ معاہدہ مشکل میں پڑ سکتا ہے اور پورا خطہ ایک نئے جنگی چکر میں پھنس جائے گا۔

جیسا کہ جنگ بندی پر عمل کے پہلے دن کی صبح کافی سخت لہجے اور جارحانہ موڈ کے اظہار سے بھری رہی۔ صبح سویرے اسرائیل نے غزہ میں بمباری کر کے کئی فلسطینیوں کو مزید ہلاک اور بہت ساروں کو زخمی کیا۔

ہفتہ کے روز نیتن یاہو نے ٹی وی خطاب میں بھی بڑے کھلے لفظوں میں کہا تھا کہ اسرائیل غزہ میں جنگ کو بحال رکھنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ غزہ جنگ بندی پر مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ یہ جنگ بندی معاہد بے حقیقت ہوجائے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ 'اگر ہمیں ضرورت محسوس ہوئی تو ہم دوبارہ جنگ شروع کریں گے اور ہم نئے طریقے تلاش کریں گے۔ ہم پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقت کا استعمال کریں گے۔'

بہرحال پہلے تین قیدیوں کی آمد ہونے کے بعد توقع کی جاتی ہے کہ حماس 33 اسرائیلی قیدیوں کو چھوڑ دے گا اور اس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے 1890 فلسطینی قیدی رہائی پا سکیں گے۔

ایک اسرائیلی میگزین کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر حجی مطر نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'اس کا زیادہ انحصار نیتن یاہو پر ہوگا کہ ان کے مفادات جنگ کو جاری رکھنے میں ہیں یا جنگ کے خاتمے میں۔'

'ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو فیصلہ کریں گے کہ آیا اس معاہدے کو عملی طور پر کب تک جاری رکھنا ہے اور کب تک پہلے مرحلے کو چلاتے رہنا ہے۔ تاکہ اگلے دو مرحلے جنگ کے اختتام کی طرف چلے جائیں۔'

آنے والی ٹرمپ انتظامیہ ممکنہ طور پر ہو سکتا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہو جیسا کہ ماہرین کہتے ہیں۔ کیونکہ بہت سارے لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ کریڈٹ دیتے ہیں کہ انہوں نے اضافی دباؤ ڈال کر نیتن یاہو کو معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے مجبور کیا ہے۔ جو کہ جوبائیڈن انتظامیہ نہیں کر پا رہی تھی۔

'ٹرمپ کا ماضی یہی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ ہو اور دوبارہ سے اس کا پھیلاؤ روکا جائے۔'

میگزین کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حجی مطر نے مزید کہا 'جب ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں پہنچیں گے تو یقیناً امریکہ کا اثر و زور اس سلسلے میں مزید بڑھ جائے گا۔'

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس جنگی صورتحال میں دونوں طرف سے ہلاکتیں ہوئی ہیں اور جنگ روکنے کے لیے احتجاج بھی ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے جنگ بندی معاہدے کی طرف ایک طرح سے فریقین دھکیلے گئے ہیں۔

ثابت ابو راس اسرائیل میں 'ابراہم انیشی ایٹو' کے شریک ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اس جنگ سے نقصان اٹھایا ہے۔ تل ابیب کی معیشت بھی خراب ہوئی ہے اور اسرائیلی معاشرے میں تقسیم گہرے ہونے کا بھی سبب بنی ہے۔ جیسا کہ اسرائیل میں جنگ کے دوران ہونے والے مسلسل مظاہریوں سے ظاہر ہوتا ہے۔

جبکہ حماس اور اس کے کمزور اتحادیوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے اس کا بھی نقصان ہوا ہے۔ 'مگر اسرائیل کے رہنے والے اب اس جنگ سے تھک چکے ہیں۔ میں نے اسرائیلی فوجیوں کے والدین کی درخواستیں دیکھی ہیں جس میں وہ بتاتے ہیں کہ اب لڑنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے میرے خیال میں جنگ کا خاتمہ دونوں فریقوں کے مفاد میں ہے۔'

تاریخ کو دہرانے سے گریز

جنگ بندی معاہدہ مہینوں پر پھیلی ہوئی خوفناک اور تباہ کن جنگ اور جنگی محاصرے سے نجات کی طرف ایک سنگ میل ہے۔ تاہم اس نجات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہوگا کہ مزید کام کیا جائے اور تاریخ کو بار بار دہرایا نہ جائے۔

مطر نے مزید کہا 'یہ آسان ہے کہ جنگ بندی کے بارے میں پرجوش ہوں۔ لیکن مسئلہ کا یہ کافی حل نہیں ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس مسئلے نے ہمیں چند مہینوں میں کہاں سے کہاں لے جا پھینکا ہے۔ لیکن یہ مسئلہ اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ کم از کم اس وقت تو کوئی بھی اس موضوع پر بات نہیں کر رہا کہ یہ مسئلہ ابھی موجود ہے۔'

عالمی رہنما اس جنگ بندی پر خوشی بھرے بیان دے رہے ہیں۔ لیکن وہ اس مسئلے کو حل کرنے کی طرف بہت ہی کم توجہ دے رہے ہیں۔ اگر یہ مسئلہ ایسا ہی رہا توخطرہ رہے گا کہ فلسطینی جنگ زدہ پٹی پر ہی اپنے آپ کو محسوس کریں۔

'اس وقت یہ حقیقی معنوں میں ضروری ہے کہ آگے بڑھا جائے۔ تعمیر نو کی جائے۔ غزہ کی بحالی کی جائے ۔ لیکن طویل مدتی معنوں میں دیکھا جائے تو ضروری ہے کہ اصل مسئلے کو حل کیا جائے اور اس محاصرے و قبضے کو ختم کیا جائے جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں