حماس نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے ساتویں دن بے گھر افراد جنوبی اور شمالی غزہ کے درمیان منتقل ہو سکیں گے۔ حماس نے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے ساتویں دن بے گھر افراد کو شمالی غزہ واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔
حماس نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ معاہدے کے ساتویں دن معائنہ کے بعد گاڑیوں کو نیٹزارم کے محور کے شمال میں واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔ بے گھر ہونے والے پیدل چلنے والوں کو معاہدے کے 22ویں دن بغیر معائنہ کیے صلاح الدین سٹریٹ کے شمال میں واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔ .
غزہ میں جنگ بندی اتوار 19 جنوری کو نافذ ہوئی ۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ وہ معاہدے کی شرائط کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ہم مغوی افراد کی واپسی کے لیے غزہ کے معاہدے کی شرائط کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہم کسی بھی صورت حال کے لیے تیار ہیں اور ہم اپنی اہلکاروں کو درپش کسی بھی خطرے کو ہٹانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتے رہیں گے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 15 ماہ کی خون ریز جنگ کے بعد 19 جنوری کو نافذ ہوا تھا اور اس میں دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی شرط رکھی گئی تھی۔ اس معاہدے میں شمال میں بفر زون کے قیام کے ساتھ پوری غزہ کی پٹی سے بتدریج اسرائیلی انخلا بھی شامل تھا۔ معاہدے میں جنگ کے مستقل خاتمے اور غزہ کی تعمیر نو کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔
بعد میں کچھ اسرائیلی بیانات نے جنوبی غزہ کی پٹی میں فلاڈیلفیا کراسنگ کی قسمت کے بارے میں ابہام پیدا کیا۔ یہ ابھام اس لیے بھی پیدا ہوا کہ اسرائیل نے پہلے اس سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔ گذشتہ اتوار کو غزہ میں جنگ بندی کے بعد سے بہت سے جنگ سے تنگ فلسطینیوں نے پیدل یا گاڑیوں میں اپنے گھروں کے کھنڈرات کی طرف لوٹنا شروع کر دیا ہے۔
جنگ بندی پر ان کی خوشی ان کے گھروں کو ہونے والی مکمل تباہی کے مناظر کے صدمے سے کم ہو گئی۔ کچھ غزہ کے باشندے اس جگہ کو بھی پہچان نہیں سکے جہاں وہ کبھی رہتے تھے۔ لوگ تباہ شدہ محلوں سے منہ موڑ کر ان خیموں کی طرف لوٹ گئے جن میں وہ گزشتہ مہینوں سے پناہ لیے ہوئے تھے۔ کئی افراد نے اپنے گھروں کے ملبے پر واپس جانے کی کوشش میں ملبہ ہٹانا شروع کر دیا۔
اقوام متحدہ کی جانب سے رواں ماہ کیے گئے ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے بعد باقی ماندہ 50 ملین ٹن سے زیادہ ملبے کو ہٹانے میں 21 سال لگ سکتے ہیں۔ ملبہ ہٹانے کی لاگت 1.2 بلین ڈالر تک ہوسکتی ہے۔
ملبے تلے اب بھی ہزاروں لاشیں لاپتہ ہیں۔ غزہ میں صحت کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ اس جنگ میں کم از کم 47,000 افراد شہید ہو چکے ہیں اور مزید ہزاروں کی باقیات ملبے کے نیچے موجود ہیں۔