فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ وہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کے سلسلے میں ہونے والی عملدرآمد کی صورتحال سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لبنان کے صدر جوزف عون سے فون پر ہونے والی گفتگو میں کیا ہے۔
صدر جوزف عون نے ان سے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کا پابند بنائیں۔
واضح رہے امریکہ و فرانس اس اسرائیل اور لبنان کے جنگ بندی معاہدے کے بڑے ثالث اور ضامن کے طور پر موجود ہیں۔ انہی دونوں ملکوں کی کوششوں سے یہ جنگ بندی معاہدہ ممکن ہوا ہے۔ اس جنگ بندی معاہدے کے تحت 60 دنوں میں اسرائیل کو اپنی فوج جنوبی لبنان سے نکال لینا تھی۔ لیکن تقریباً 57 دن گزرنے کے باوجود اسرائیل نے اس سلسلے میں عملدرآمد مکمل نہیں کیا۔ جبکہ لبنان میں مختلف کارروائیاں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے یہ پیغام منتقل کیا ہے کہ وہ 60 دنوں میں اپنا فوجی انخلا مکمل نہیں کرے گا۔
فرانس اور لبنان کے صدور کے درمیان یہ فون کال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے دیہاتوں کے رہنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ابھی اپنے گاؤں واپس نہ آئیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے باقاعدہ طور پر یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ اتوار کے روز تک فوج واپس نہیں نکالے گا۔
اس سے قبل لبنان کے نگران وزیراعظم نجیب میقاتی نے بھی امریکہ اور فرانس کے صدور کو خط لکھا تھا کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے کہیں کیونکہ اسرائیل نے 27 نومبر کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی مسلسل لبنان میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
-
ایمریٹس ایئر لائن لبنان کے دارالحکومت بیروت کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرے گی
اسرائیل-حزب اللہ تنازع کے باعث چار ماہ کی معطلی کے بعد ایمریٹس ایئرلائن یکم فروری ...
مشرق وسطی -
اسرائیل نے انخلا ملتوی کر دیا، جنوبی لبنان میں دراندازی جاری
معاہدے کی شرائط پر تیزی سے عمل درآمد نہیں کیا جا رہا، مزید کام کرنے کی ضرورت ہے: ...
مشرق وسطی -
اسرائیل فوج کا جنوبی لبنان سے مکمل طور پر پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان، حزب اللہ جنگ سے گریزاں
لبنانی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کی ابتدائی مدت کل اتوار ...
مشرق وسطی