سعودی عرب نے مغربی سوڈان کے ایک محصور قصبے میں ایک ہسپتال کو نشانہ بنانے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی" قرار دیا ہے۔ حملے میں 70 سے زائد افراد ہلاک اور 19 دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
الفاشر کے مرکزی سپتال پر حملے سے متعلق بیان میں سعودی وزارتِ خارجہ نے زور دیا کہ "طبی اور انسانی ہمدردی کے کارکنان کے تحفظ"، "خود ضبطی" کی مشق اور "شہریوں کو نشانہ بنانے" سے گریز کیا جائے۔
وزارت نے خود پر تحمل اور شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز پر زور دیا اور 11 مئی 2023 کو جاری کردہ جدہ اعلامیہ میں ہونے والے وعدوں پر عمل کرنے کا تقاضہ کیا۔ اس اعلامیہ میں سوڈان کے شہریوں کے تحفظ کا عزم کیا گیا تھا۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئسس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "الفاشر میں سعودی ہسپتال پر خوفناک حملے میں 19 زخمی اور مریضوں اور لواحقین میں 70 افراد ہلاک ہو گئے"۔
انہوں نے مزید کہا، "حملے کے وقت ہسپتال زیرِ نگہداشت مریضوں سے بھرا ہوا تھا۔"
دارفور میں آر ایس ایف نے گذشتہ مئی سے الفاشر کا محاصرہ کر رکھا ہے حالانکہ مسلح ملیشیا نے شہر پر قبضے کی بارہا کوششوں کو کامیابی سے پسپا کر دیا ہے۔
اے ایف پی آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ سوڈان کے کس متحارب فریق نے حملہ کیا تھا۔
سوڈان تنازعہ ایک غیر معمولہ انسانی تباہی کا سبب بنا ہے۔
ہزاروں افراد ہلاک اور 12 ملین سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
ملک کے مختلف حصوں میں قحط پھیل رہا ہے جس کے باعث بعض خاندان خاص طور پر ملک کے مغرب اور جنوب میں گھاس اور جانوروں کے چارے پر زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔