ساڑھے 15 ماہ کی جنگ کے بعد لاکھوں کی تعداد میں بےگھر فلسطینی اپنے گھروں کی طرف رواں دواں ہیں اور گھروں کے ملبے کے ڈھیروں پر یا اس کے آس پاس میں ایسی چھت اور سائے کی تلاش کر رہے ہیں جس میں وہ سر چھپا سکیں اور اپنے پیاروں کی یادوں میں زندگی گزار سکیں۔ جہاں ان کے سینکڑوں ہزاروں پیارے اور رشتہ دار اپنی آزادی کی خاطر جانیں دے چکے ہیں۔
انہیں اپنے لاپتہ ہوجانے اور ملبے کے ڈھیروں کے نیچے آجانے والے رشتہ داروں کی تلاش بھی ہے جن کی لاشوں اور باقیات کی وہ کم از کم ایک ہفتے سے غزہ کی پٹی پر مختلف جگہوں پر تلاش شروع کر چکے ہیں۔
غزہ کی پٹی کے شمال میں اس آمد و رفت سے ہونے والی ہلچل کا مرکز بنے ہوئے ایک ایسا خول تھا جسے اسرائیلی فوج نے بمباری سے ملبے کے ڈھیروں میں بدل دیا ہے اور اب ہر طرف سیمنٹ، بجری، اینٹوں اور تباہ شدہ مکانوں کے پتھروں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔
بار بار کی بمباری نے ملبے کے ان ڈھیروں کو بھی ایک غیرمعمولی پختگی و استقامت دے دی ہے۔ جیسے اینٹ گارے کے اس ملبے نے بھی فلسطینیوں کے اس عزم ، ہمت اور حوصلے سے حصہ پالیا ہے۔
واپس آنے والوں میں بہت سے ایسے ہیں جن کے پاس کچھ بچا کھچا سامان ہے اور وہ گاڑیوں یا چھکڑوں پر اور ہتھ گاڑیوں پر لاد کر لا رہے ہیں۔ لیکن یہ سامان ان بھرے پرے گھروں کے سامان کی طرح نہیں ہے بلکہ لٹے پٹے قافلے والوں کے سامان کی طرح ہے۔
وہ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے اپنے علاقے کی تباہی کے بعد یہاں سے نکل گئے تھے اور اب تقریباً 20 کلومیٹر واپسی کا یہ سفر طے کر کے کوسٹل ہائی وے کے ساتھ ساتھ شمال کی طرف واپس آرہے ہیں۔
پیر کی شام تک حماس کے حکام کا کہنا تھا کہ تین لاکھ سے زیادہ بےگھر فلسطینی عوام واپس اپنے گھروں کے ملبے کی طرف پلٹ چکے تھے۔ منگل کے روز اس تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
لاکھوں لوگ اب بھی 'گھر واپسی' کی امنگ کے ساتھ پورے پختہ عزم کے ساتھ واپس آرہے ہیں۔ جبکہ ثالث ملکوں نے جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر نظریں جمانا شروع کر دیں ہیں۔ البتہ اسرائیل اور اس کے سرپرست و اتحادیوں کو ان فلسطینیوں کی اپنے گھروں کے ملبے کی طرف واپسی بھی قبول نہیں۔ اس لیے انہیں مصر اور اردن سمیت دنیا کے کئی دوسرے خطوں میں اٹھا پھینکنے کی تجاویز سامنے آرہی ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو حکومت میں اپنے اتحادیوں کی طرف سے سخت دباؤ میں ہیں جو جنگ بندی کے اس معاہدے کو حماس سے شکست کھانے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ ان کو اس بات پر دلی رنج ہے کہ ساڑھے 15 ماہ کی اس طویل جنگ کے دوران اسرائیلی فوج اسرائیلی قیدیوں کو غزہ سے چھڑوانے میں کامیاب ہوئی نہ حماس کا خاتمہ کر سکی۔ بلکہ آج بھی حماس کا غزہ میں حکم چلتا ہے۔
تباہی کی انتہائی شکلیں دیکھنے کے باوجود غزہ کے فلسطینی عوام آزادی اور قربانی کے لیے نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔
ایک طرف اسرائیل ہے جس کی قیادت اور عوام دونوں پھٹ چکے ہیں اور دوسری طرف بے سرو سامانی کے عالم میں غزہ کے فلسطینی ہیں جو ایک بار پھر متحد ہو کر واپس اپنے علاقوں میں آرہے ہیں۔
حماس کے ذمہ دار سمیع ابو زہری نے اس صورتحال میں کہا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم مذاکرات کے اگلے دور میں داخل ہوں گے۔ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ تاکہ دوسرا مرحلہ شروع ہو اور ہم بڑے پر اعتماد ہیں کہ نیتن یاہو کے پاس دوسرے مرحلے کے مذاکرات کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔
-
غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات کا آغاز
اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے کے دوسرے مرحلے کے ...
مشرق وسطی -
غزہ کے لوگوں نے اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا : ایرانی سپریم لیڈر
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے منگل کے روز غزہ میں اسرائیلی جنگ کے بارے میں ...
بين الاقوامى -
غزہ کے فلسطینیوں کی کوئی بھی جبری ہجرت قابل قبول نہیں ہے : فرانس
فرانس کے وزیر خارجہ جان نویل بارو کا کہنا ہے کہ غزہ کی آبادی کو عرب ممالک میں آباد ...
مشرق وسطی