سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے آج ریاض میں ان کے دفتر میں ملاقات کی۔
دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امورپر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کلنٹن نے ایک ایسے وقت میں سعودی عرب کا دورہ کیا ہے جہاں مشرق وسطیٰ کے امور کے لیے پہلے امریکی ایلچی سٹیو وٹ کوف سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔ صدر کی انتظامیہ کی جانب سے اپنے غیر ملکی دوروں کے پہلے پڑاؤ کے طور پر ریاض کو منتخب کرنے کے حوالے سے یہ دورہ اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی ایلچی کا دورہ سعودی عرب اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ خطے اور دنیا کی سلامتی اور معیشت کو بڑھانے کے لیے ایک بنیادی ستون کے طور پر دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی خواہش مند ہے۔ امریکہ خطے کے استحکام ، سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی طور پر مملکت کو اہمیت دیتا ہے۔
-
سعودی عرب : مشرق وسطیٰ میں 'کنگ سلمان ریلیف' کی امدادی سرگرمیاں جاری
مملکت کے بین الاقوامی امدادی ادارے 'کے ایس ریلیف' نے مشرق وسطیٰ میں مشکل حالات میں ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں اطالوی کمپنیوں کے لیے روشن مواقع ہیں : سفیر کارلو بالڈوچی
ریاض میں اطالوی سفیر کارلو بالڈوچی نے اطالیہ کی وزیر اعظم جورجیا میلونی کے سعودی ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب-اٹلی کی شراکت داری باہمی مفادات کو فروغ دینے کا باعث بنے گی:کابینہ
سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی زیرصدارت ...
مشرق وسطی