سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں پچھلے ایک ہفتےکے دوران ہونے والے اہم واقعات پر روشنی ڈالی گئی۔
کابینہ نے ولی عہد اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات چیت اور اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے دورہ سعودی عرب پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔اس موقعے پر سعودی ولی عہد کی اطالوی وزیراعظم سے ہونے والی ملاقات اور امریکی صدر کے ساتھ ٹیلیفون پر ہونے والی بات چیت کے مواد کے بارے میں کابینہ کو مطلع کیا گیا۔ اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی پیشرفت پر تبادلہ خیال کے علاوہ مختلف شعبوں میں مملکت اور دوسرے ممالک کے مابین تعلقات کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
دریں اثنا کابینہ کے اجلاس میں وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے لبنان اور شام کے دوروں کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں برادر ممالک اور عوام کے لیے مملکت کی حمایت اور ان کی عرب ممالک میں فطری حیثیت کو بحال کرنے کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ساتھ ہی سعودی کابینہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ سعودی عرب اور اٹلی کی حکومتوں کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کا قیام ہر سطح پر دوطرفہ رابطے اور تعاون کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔
اس کے علاوہ سعودی کابینہ کے اجلاس میں سوئس شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں مملکت کے وفد کی شرکت کو سراہا۔ سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے حصول میں مسلسل پیش رفت اور عالمی اقتصادی نقطہ نظر کی اصلاح، تبدیلی کی جدت کو آگے بڑھانے، انسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں معاونت کرنے والے سب سے نمایاں اقدامات اور تعاون کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کابینہ نے ہنگامی حالات میں تیل اور دیگر نقصان دہ مواد سے سمندری آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک قومی منصوبے کی منظوری کے علاوہ گاڑیوں کی خریداری اور کرایہ پر لینے والے سرکاری اداروں کے لیے کنٹرولز کی منظوری دی۔