اسرائیل اور حماس جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے لیے مذاکرات فوری شروع کریں : قطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

قطری وزیر اعظم نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا ہے کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات میں تاخیر کے بہانے اختیار کرنے کے بجائے فوری طور پر مذاکرات کا انعقاد کریں۔ تاکہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کو بروقت ممکن بنایا جا سکے۔

شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے ان خیالات کا اظہار قطر کے دارالحکومت دوحا میں ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیضان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ہے۔

واضح رہے جنگ بندی معاہدے کے مطابق دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات کا آغاز معاہدہ ہونے کے 16 دن کے بعد طے کیا گیا تھا جس کا تقاضا ہے کہ یہ مذاکرات پیر کے روز سے شروع کیے جائیں۔

تاہم اسرائیلی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق امریکہ روانگی سے پہلے نیتن یاہو نے اپنے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی میری ملاقات کا انتظار کریں اور ابھی دوحا روانہ نہ ہوں۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان 3 مراحل پر محیط جنگ بندی کا پہلا عملی مرحلہ 19 جنوری سے شروع ہوا تھا۔ جس کے تحت اب تک کل 18 قیدیوں کو حماس نے غزہ سے رہائی دے دی ہے اور اس کے بدلے میں سینکڑوں فلسطینی اسیران کو اسرائیل نے اپنی جیلوں سے رہا کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے خیال میں 70 اسرائیلی قیدی اب بھی غزہ میں موجود ہیں۔

دوسرے مرحلے کے لیے معاہدے میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ حماس باقی ماندہ تمام اسرائیلی قیدیوں کو غزہ سے رہا کرے گا اور دشمنی کے مستقل خاتمے کو یقینی بنایا جائے گا۔ نیز اسرائیلی فوج غزہ سے مکمل طور پر نکل جائے گی۔

قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے اتوار کے روز اپنی پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ ابھی تک کچھ واضح نہیں ہے کہ فریقین کے وفود مذاکرات کے لیے کہاں اور کب پہنچیں گے۔

تاہم ان کا یہ کہنا بھی تھا کہ بطور ثالث قطر کا اسرائیل و حماس کے ساتھ مذاکرات کے اگلے فیز کے لیے فون پر رابطہ ہے۔ تاکہ مذاکرات کا ایجنڈا طے کیا جا سکے۔

وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ ہم اگلے چند دنوں میں یہ مذاکراتی سلسلہ شروع کر پائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب یہ مشکل ہے کہ ہم چیزوں کو لپیٹ سکیں اور 42 دنوں کے مکمل ہونے سے پہلے معاہدے پر اتفاق کر سکیں۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ ہم جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے لیے مذاکرات کا آغاز واشنگٹن میں پیر کے روز سے شروع کرنے جا رہے ہیں۔ جہاں مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف سے نیتن یاہو کی ملاقات متوقع ہے۔ جبکہ اگلے روز منگل کو وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی وائٹ ہاؤس میں ملنے والے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ وٹکوف کے ساتھ نیتن یاہو کی ملاقات میں اسرائیل و حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاملہ سر فہرست ہوگا۔ اس کے بعد وٹکوف قطر و مصر کےحکام سے بھی بات کریں گے جو جنگی فریقین کے درمیان اہم ثالث ملکوں کے طور پر پچھلے 15 ماہ سے کردار ادا کر رہے ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں