پانچ عرب ملکوں کا غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلا کے خلاف امریکہ کے نام خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطین کے گردو پیش میں پھیلے عرب ممالک فلسطینیوں کے غزہ سے جبری انخلا اور بے دخلی کے خلاف ہیں۔ اس امر کا تازہ اظہار پانچ عرب ملکوں کے وزرائے خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے نام لکھے گئے ایک مشترکہ خط میں کیا ہے۔

عرب وزرائے خارجہ کی طرف سے لکھے گئے اس خط میں صدر ٹرمپ کے منصب صدارت سنبھالنے کے پہلے ہی ہفتے کے دوران غزہ سے لاکھوں فلسطینیوں کو اردن اور مصر طرف نکال دیے جانے کی مخالفت کی گئی ہے۔ اس بارے میں میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے یہ خط پیرکے روز بھیجا گیا ہے۔

خط پر اردن ، مصر، سعودی عرب، قطر اور عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی صدارتی مشیر حسین الشیخ کے دستخط ہیں۔ اس بارے میں سب سے پہلے ' ایکسیوس ' نے مصر کے اعلی ترین سفارتی عہدے دار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا۔

یاد رہے فلسطینیوں کی بڑی تعداد سے غزہ کی زمین خالی کراکے انہیں آس پاس کے ملکوں میں دھکیلنے کا منصوبہ ٹرمپ نے 25 جنوری کو پیش کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بات فلسطین کے مسئلے کے قلیل مدتی یا طویل المدتی دونوں طرح کے حل کے لیے کہی تھی۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا غزہ سے فلسطینیوں کی یہ منتقلی طویل مدتی بھی ہو سکتی ہے اور قلیل مدتی بھی۔

لیکن ٹرمپ کے اس مجوزہ منصوبے سے غزہ کے فلسطینیوں کے کان کھڑے ہو گئے کہ انہیں مستقل بنیادوں پر فلسطینی سرزمین سے دور پھینک دینے کی کوشش ہے، جو کہ سیدھی سیدھی نسلی تطہیرکی تجویز ہے۔ مصر ، اردن اور دوسرے عرب ملکوں نے بھی اس کی مخالفت کی۔

امریکی وزیر خارجہ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے ' غزہ کی تعمیر نو اہل غزہ کی براہ راست شمولیت اور شراکت سے کی جانی چاہیے اور ان کی ان کے گھروں اور اپنی زمین پر رہنے میں مدد کی جانی چاہیے۔ '

نیز یہ کہ فلسطینیوں کی اپنی نمائندگی کو اس تعمیر نو سے الگ نہیں کرنا چاہیے ۔ انہیں لازماً تعمیر نو کے عمل کی ' اونر شپ' لینا چاہیے اور بین الاقوامی برادری کی مدد سے اس پراسس کو آگے بڑھانا چاہیے۔'

آج منگل کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی صدر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات میں غزہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے یا جنگ کے نئے آغاز کے علاوہ اہل غزہ سے متعلق یہ اہم ترین موضوع ہو سکتا ہے۔11 فروری کو اردن کے شاہ عبداللہ دوم بھی صدر ٹرمپ سے اسی موضوع پر بات چیت کرنے امریکہ پہنچ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں