ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ سے نقل مکانی کا منصوبہ ایک ’خیالی تصور‘ ہے:ایہود باراک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ کی پٹی میں بسنے والے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو بیرون ملک آباد کرنے کی تجویز کو "خیالی" قرار دیا ہے۔

منگل کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے بہت سے مبصرین کو اس وقت حیران کر دیا جب انہوں نے کہا کہ امریکہ "غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھال لے گا" اور اس علاقے میں رہنے والے فلسطینیوں کو دوسرے ممالک میں آباد کیا جائے گا۔

باراک نے جمعرات کو اسرائیل کے آرمی ریڈیو کو بتایا کہ "یہ کسی ایسے منصوبے کی طرح نہیں لگتا جس پر کسی نے سنجیدگی سے غور کیا ہو۔

باراک نے تجویز پیش کی کہ ٹرمپ کے بیانات عرب رہ نماؤں کو یہ باور کرانے کی کوشش ہو سکتے ہیں کہ "اگر آپ بیدار نہیں ہوئے، غزہ کے لیے ایک عملی راستہ تجویز کیا جا سکتا۔ تاکہ عرب ممالک کو حماس کو اقتدار سے ہٹانے میں مدد پر مجبور کیا جا سکے‘۔

باراک نے وضاحت کی کہ خطے کی اعتدال پسند عرب ریاستوں کے لیے ٹرمپ کے غیر سوچے سمجھے منصوبے کے جواب میں بہتر طریقہ کار تجویز کرنا بہت معقول ہے۔

اسی تناظر میں ہسپانوی وزیر خارجہ جوزے مینوئل الباریس نے آج جمعرات کو اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کی اس تجویز کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا کہ سپین فلسطینیوں کو غزہ سے بے گھر ہونے کی صورت میں وصول کرے گا۔

رائٹرز کے مطابق،الباریس نے ہسپانوی ریڈیو سٹیشن ’آر این ای‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ "غزہ فلسطینیوں کی سرزمین ہے۔ غزہ کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا حصہ ہونا چاہیے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں