اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ کی پٹی میں بسنے والے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو بیرون ملک آباد کرنے کی تجویز کو "خیالی" قرار دیا ہے۔
منگل کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے بہت سے مبصرین کو اس وقت حیران کر دیا جب انہوں نے کہا کہ امریکہ "غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھال لے گا" اور اس علاقے میں رہنے والے فلسطینیوں کو دوسرے ممالک میں آباد کیا جائے گا۔
باراک نے جمعرات کو اسرائیل کے آرمی ریڈیو کو بتایا کہ "یہ کسی ایسے منصوبے کی طرح نہیں لگتا جس پر کسی نے سنجیدگی سے غور کیا ہو۔
باراک نے تجویز پیش کی کہ ٹرمپ کے بیانات عرب رہ نماؤں کو یہ باور کرانے کی کوشش ہو سکتے ہیں کہ "اگر آپ بیدار نہیں ہوئے، غزہ کے لیے ایک عملی راستہ تجویز کیا جا سکتا۔ تاکہ عرب ممالک کو حماس کو اقتدار سے ہٹانے میں مدد پر مجبور کیا جا سکے‘۔
باراک نے وضاحت کی کہ خطے کی اعتدال پسند عرب ریاستوں کے لیے ٹرمپ کے غیر سوچے سمجھے منصوبے کے جواب میں بہتر طریقہ کار تجویز کرنا بہت معقول ہے۔
اسی تناظر میں ہسپانوی وزیر خارجہ جوزے مینوئل الباریس نے آج جمعرات کو اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کی اس تجویز کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا کہ سپین فلسطینیوں کو غزہ سے بے گھر ہونے کی صورت میں وصول کرے گا۔
رائٹرز کے مطابق،الباریس نے ہسپانوی ریڈیو سٹیشن ’آر این ای‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ "غزہ فلسطینیوں کی سرزمین ہے۔ غزہ کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا حصہ ہونا چاہیے"۔
-
اہل غزہ کی بے دخلی سے متعلق ٹرمپ کی تجویز میں کوئی خرابی نہیں : نیتن یاہو
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی سے ...
پاكستان -
غزہ کی آبادی کے کوچ کے لیے اسرائیلی فوج کو منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے فوج کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ایک ایسا منصوبہ ...
مشرق وسطی -
غزہ کی پٹی کے ساحلوں کے لیے ٹرمپ کا داماد کیا خواب دیکھ رہا ہے ؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں تجویز پیش کی تھی کہ غزہ ...
بين الاقوامى