غزہ پر میری تجویز سب کو پسند ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بین الاقوامی اور عرب مذمتوں کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر امریکی کنٹرول اور اس کے باشندوں کی نقل مکانی کے حوالے سے ان کی تجویز کو ہر کوئی پسند کررہا ہے۔

ایجنسی فرانس پریس کے مطابق ریپبلکن ارب پتی امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو اپنے خیال کے ردعمل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ہر کوئی اسے پسند کرتا ہے۔

متبادل حل کے لیے دباؤ

قبل مریؒ بدھ کو قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نے امریکی سی بی ایس نیٹ ورک کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکی صدر کی تجویز کا مقصد غزہ کے پڑوسی عرب ممالک پر متبادل حل تک پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خیالات پورے خطے کو اپنے حل فراہم کرنے پر مجبور کریں گے۔

غیر حقیقت پسندانہ

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ اس تجویز کو مسترد کرنے والوں کے پاس فلسطینی عوام کے لیے حقیقت پسندانہ نظریہ نہیں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ کہنا کہ تباہ شدہ فلسطینی پٹی کی تعمیر نو اس طرح کرنا کہ مکین بھی وہاں مقیم رہیں غیر حقیقی ہے۔

رام اللہ سے حل

اپنی طرف سے فلسطینی صدر محمود عباس کے مشیر محمود الھباش نے العربیہ کو بیانات میں تجویز دی ہے کہ مسئلہ فلسطین پر اقوام متحدہ کے چارٹر اور قراردادوں پر عمل درآمد کیا جائے۔ رام اللہ سے انھوں نے کہا کہ میں ٹرمپ کو تجویز پیش کرتا ہوں کہ غزہ کی پٹی کی 70 فیصد آبادی جو اصل میں اپنے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے بے گھر ہوئی تھی، اپنے علاقوں میں واپس آ جائے۔ عمان نے خطے میں استحکام کی بحالی کے منصوبے کے طور پر دو ریاستی حل پر اپنی پابندی کا اعادہ کیا۔

قاہرہ نے بھی ایسا بیان دیا ہے۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے پچھلے سال غزہ کی پٹی کے باشندوں کو صحرائے نقب میں منتقل کرنے کے امکان کا ذکر کیا تھا جو اس وقت اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا انتظار کر رہے تھے۔ یاد رہے ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ دھماکہ خیز خیال خطے میں کئی دہائیوں کی امریکی پالیسی کو نظر انداز کر رہا ہے۔ امریکی پالیسی دو ریاستی حل پر کاربند ہے۔ ٹرمپ نے ایک سے زیادہ مرتبہ کہا ہے کہ ان کا ملک غزہ پر قبضہ کرنے اور فلسطینیوں کو مستقل طور پر دوسرے خطوں میں منتقل کرنے کے لیے تیار ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان پر دنیا بھر سے تنقید کی جارہی ہے۔ خاص طور پر چونکہ زیادہ تر عرب ممالک نے بار بار دو ریاستی حل پر قائم رہنے اور مصر، اردن اور سعودی عرب کی قیادت میں فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے گھر کرنے سے انکار کا اعادہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں