امریکی امداد منجمد ؛ شامی کیمپ کے حالات بگڑنے لگے: ہیومن رائٹس واچ
داعش کے جنگجوؤں کے خاندان کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں
ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے جمعہ کو خبردار کیا کہ امریکی امداد کی معطلی سے شمال مشرقی شام میں داعش کے مشتبہ دہشت گردوں کے رشتہ داروں کے کیمپوں میں موجودہ "خطرناک حالات" خراب تر ہو سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کے ادارے نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ مالی معاونت برقرار رکھے۔
داعش کی علاقائی شکست کے برسوں بعد خطے میں کردوں کے زیرِ انتظام کیمپوں اور جیلوں میں اب بھی تقریباً 56,000 افراد ہیں جن کے شدت پسندوں سے مبینہ روابط ہیں یا ایسا سمجھا جاتا ہے۔
ان میں جیلوں میں بند مشتبہ شدت پسند افراد کے ساتھ ساتھ داعش کے دہشت گردوں کی بیویاں اور بچے بھی شامل ہیں جو الہول اور روج کے حراستی کیمپوں میں قید ہیں۔
ایچ آر ڈبلیو نے ایک بیان میں کہا، "امریکی حکومت نے ان کیمپوں میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے لیے غیر ملکی امداد معطل کر دی ہے جس سے خطرناک حالات شدت اختیار کر رہے ہیں اور سکیورٹی کی غیر یقینی صورتِ حال کو مزید عدم استحکام کا خطرہ لاحق ہے۔"
انسانی حقوق کے ادارے نے بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے کارکنان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امداد کی بندش "کیمپ کے رہائشیوں کے لئے ضروری خدمات کی فراہمی محدود کر سکتی ہے۔"
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اقتدار میں واپس آنے کے چار دن بعد 24 جنوری کو امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) سے منسلک این جی اوز کو پہلا خط موصول ہوا جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ ایجنسی کی مالی امداد سے چلنے والی تمام سرگرمیاں بند کر دیں۔
ایک ہفتے بعد اے ایف پی کے ملاحظہ کردہ ایک اور خط میں انہیں بعض مشن دوبارہ شروع کرنے کا اختیار دیا گیا جن کا مقصد "زندگی بچانے والی انسانی امداد" ہے۔
بیان میں کہا گیا، ان احکامات نے شمال مشرق میں امدادی گروپوں کو "اس غیر یقینی کا شکار کر دیا ہے کہ مٹی کے تیل اور پانی جیسے ضروری سامان کی فراہمی کے لیے کیسے آگے بڑھیں۔ اس وجہ سے پہلے سے موجود قلت مزید شدت اختیار کر رہی ہے"۔
گروپ نے کہا، "امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کو چاہیے کہ وہ شمال مشرقی شام میں جان بچانے والی ضروری امداد فراہم کرنے والی تنظیموں کے لیے امریکی امداد جاری رکھیں۔"
ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ 24 جنوری کے حکم کے بعد الہول اور روج میں کیمپ کے انتظام کی ذمہ دار تنظیم بلومونٹ نے سرگرمیاں معطل کر دیں اور محافظوں سمیت تمام عملے کو واپس بلا لیا۔
چند دنوں بعد گروپ کو دو ہفتے کی مہلت ملی جس سے اس کا کام کرنا ممکن ہوا۔
الہول شمال مشرقی شام کا سب سے بڑا حراستی کیمپ ہے جہاں 47 ممالک کے 40,000 سے زیادہ قیدی ہیں۔
الہول اور روج کیمپوں کے رہائشیوں کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے جو انتہائی سنگین حالات میں زندگی گذار رہے ہیں۔
ایچ آر ڈبلیو نے یہ بھی کہا، "خطے میں کسی بھی سیاسی تصفیے میں ان لوگوں کی من مانی حراست کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے جو مبینہ طور پر داعش سے تعلق رکھتے ہوں اور ان کے خاندانوں سے ہوں۔"
ہیومن رائٹس واچ کی حبا زیادین نے کہا، "کئی بچوں سمیت ہزاروں جانیں غیر یقینی کا شکار ہیں اور گذشتہ چھے سالوں کے ناقابلِ جواز حالات کو جاری نہیں رہنا چاہیے۔"
شام کے نئے حکام کے سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) سے اس کے مستقبل کے بارے میں مذاکرات اور شمال میں کردوں کے زیر قیادت گروپ اور ترکی کے حمایت یافتہ دھڑوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جن کے درمیان یہ مطالبہ سامنے آیا ہے۔
-
تونس: سربراہ نہضہ تحریک راشد الغنوشی 22، سابق وزیر اعظم ھشام المشیشی کو 35 سال قید
ریاستی سلامتی پر حملہ کرنے کے الزام میں تونس کی ایک عدالت نے النہضہ تحریک کے رہنما ...
بين الاقوامى -
امریکی ٹرمپ انتظامیہ : شام سے افواج کی منتقلی پر غور شروع
امریکی محکمہ دفاع نے شام سے افواج کو نکال کر دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کی مختلف ...
بين الاقوامى -
ایران کا اولین ڈرون بردار طیارہ پاسدارانِ انقلاب کے بیڑے میں شامل
سمندر میں ڈرون اور ہیلی کاپٹر لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
مشرق وسطی