معاہدہ پر عمل نہیں ہو رہا: حماس نے کل رہا ہونیوالے قیدیوں کے ناموں میں تاخیر کردی

انسانی ہمدردی سے متعلق پروٹوکول کی پاسداری نہیں کی جارہی: حماس کا اسرائیل اور ثالثیوں کو پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نجی ذرائع نے ’’العربیہ‘‘ کو اطلاع دی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی پانچویں قسط میں کل بروز ہفتہ کو رہا کیے جانے والے زیر حراست افراد کے نام جمع کرانے میں تاخیر حماس کی جانب سے اسرائیل اور ثالثوں کے لیے ایک پیغام ہے۔ ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ حماس نے ثالثوں کو آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل نے منظور شدہ انسانی پروٹوکول کی پاسداری نہیں کی ہے۔ خاص طور پر موبائل گھروں، خیموں اور ملبہ ہٹانے کے لیے ضروری سامان لانے، ہسپتالوں کی بحالی اور ایندھن فراہم کرنے کے حوالے سے پروٹوکول کی پاسداری نہیں کی گئی ہے۔ اس وجہ سے سخت سردی میں شہریوں اور بے گھر ہونے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ حماس نے ثالثوں بالخصوص مصر اور قطر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مداخلت کریں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ اسرائیل اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مسلسل تاخیر کر رہا ہے۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کا چوتھا تبادلہ رواں ماہ کے آغاز میں ہوا تھا۔ اس میں تحریک کی جانب سے 183 فلسطینیوں کی اسرائیلی جیلوں سے رہائی کے بدلے میں تین اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی معاہدے میں لڑائی کے خاتمے اور آبادی والے علاقوں سے اسرائیل کا انخلا طے کیا گیا تھا۔ پہلا مرحلہ چھ ہفتوں کے لیے جاری ہے۔ اس میں غزہ سے تھائی باشندوں کے علاوہ 33 یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے لگ بھگ 1900 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جانا ہے۔

معاہدے کے تحت غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے کو جاری رکھنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔ خوراک، طبی اور دیگر امدادی سامان جن میں 2 لاکھ خیمے اور 60 کارواں، ہسپتالوں اور واٹر سٹیشنوں کی بحالی، بیکریاں چلانے اور ایندھن کی فراہمی لانا بھی معاہدے میں شامل تھا۔ دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے دور میں مستقل جنگ بندی، فلاڈیلفیا کے محور سمیت پوری پٹی سے اسرائیلی فوجی انخلا اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے معیار پر اتفاق پر توجہ مرکوز کی جانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں