سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ایک ذمہ دار ذریعے کے مطابق حکام نے عسیر، جازان اور مشرقی صوبے کے علاقوں میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تین مجرمانہ نیٹ ورکس کے انیس عناصر کو گرفتار کیا ہے، جو مملکت کے دیگر علاقوں میں ان کی منتقلی اور منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل کی گئی رقم کی لانڈرنگ میں بھی ملوث تھے۔
ذریعے نے بتایا کہ ان گینگز میں کسٹم کے سات افسران بھی شامل ہیں۔ ذریعےنے تصدیق کی کہ سکیورٹی حکام نے منشیات کی سرگرمیوں میں ملوث 19 عناصر کو گرفتار کیا، جن میں وزارت داخلہ کے5 ، زکوٰۃ، ٹیکس اور کسٹمز اتھارٹی کے سات وزارت دفاع کے تین اہلکار بھی شامل ہیں۔
ذریعے نے بتایا کہ گرفتار عناصرکے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی شروع کردی ہے۔ ملزمان کو پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کیا گیا۔ ساتھ ہی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام اور نوجوانوں کو منشیات کے ذریعے نشانہ بنانے کے تمام مجرمانہ سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لیے چوکس ہیں۔
گذشتہ سال کے آخر میں سعودی عرب نے ایک بار پھر دو مجرمانہ نیٹ ورکس کا سراغ لگا کر ان کے خلاف کارروائی کی۔ یہ گینگ ایمفیٹامین گولیاں اور چرس کی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ ان کے متعدد عناصر کو کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت وزارت داخلہ نے وضاحت کی تھی کہ پکڑے گئے دونوں نیٹ ورک ریاض اور جازان کے علاقوں میں منشیات کی اسمگلنگ اور تجارت میں سرگرم تھے۔