اسرائیلی سیکورٹی کابینہ کا طویل اجلاس ، وزراء کا 'غزہ ہجرت منصوبے' کے آغاز کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ معاہدے کے حوالے سے آج منگل کے روز اسرائیلی سیکورٹی کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ العربیہ نیوز کے نمائندے کے مطابق یہ اجلاس ساڑھے چار گھنٹے جاری رہا۔

اجلاس میں اسرائیل کے دو وزراء شلوم کارعی اور بتسلیل سموٹرچ نے مطالبہ کیا کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے منصوبے پر عمل درآمد "فور طور پر" شروع کیا جائے۔

وزیر مواصلات کارعی نے "ایکس" پر ایک پوسٹ میں زور دیا کہ غزہ سے فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے منصوبے پر ہنگامی طور پر عمل کیا جائے ، امداد کا سلسلہ روک دیا جائے اور بجلی اور پانی کی فراہم منقطع کر دی جائے۔

رواں ماہ 4 فروری کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ان کا ملک غزہ سے فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے بعد اس کا کنٹرول لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

گذشتہ ماہ 25 جنوری سے ٹرمپ غزہ کے فلسطینیوں کی ہمسایہ ممالک مثلا مصر اور اردن جبری ہجرت کی سوچ کو فروغ دے رہے ہیں۔ تاہم مذکورہ دونوں ممالک اس تجویز کو مسترد کر چکے ہیں جب کہ دیگر عرب ممالک اور علاقائی و بین الاقوامی تنظیمیں بھی اس موقف میں شامل ہو گئی ہیں۔

ادھر اسرائیل کے وزیر مالیات سموٹرچ نے بھی ٹرمپ کے بیان کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "صدر ٹرمپ کے مطابق اسرائیل ہفتے کے روز تک غزہ سے بنا استثنا تمام یرغمالیوں کی واپسی کی واضح مہلت مقرر کر سکتا ہے ، بصورت دیگر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے"۔

سموٹرچ نے یہ بات آج منگل کے روز ایک تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ کی دسویں سالانہ کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران کہی۔ اسرائیلی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ یرغمالیوں کو محفوظ رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ حماس کو آگاہ کر دیا جائے کہ اگر کسی بھی مغوی کو کوئی نقصان پہنچا تو ہم اسی روز غزہ کی پٹی کے 5% حصے پر اسرائیلی خود مختاری کا اعلان کر دیں گے، اور پھر اسی طرح اگلے 5% پر ، ایک کے بعد ایک، ہمیں اس کی پوری سپورٹ حاصل ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں