غزہ کے جنوب میں واقع خان یونس شہر میں اسرائیلی فوج کے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے کے بعد تحریک حماس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کی رہائی کا مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ حماس نے ایک بیان میں کہا کہ چھٹے بیچ کی رہائی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ان کی رہائی کا واحد راستہ مذاکرات کے ذریعے ہی ہے۔
انسانی ہمدردی کا پروٹوکول
دریں اثنا تحریک حماس کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے ثالثوں کے وعدوں اور ضمانتوں کی بنیاد پر انسانی ہمدردی کے پروٹوکول پر عمل درآمد شروع کرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج کا تبادلہ حماس کی جانب سے ثالثوں کے ساتھ کیے گئے وعدوں اور ضمانتوں کے حصول کے بعد اسرائیلی فریق کو معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پابند کرنے کا عہد ہے۔
انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات کی تیاری کے سلسلے میں ثالثوں کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔ یہ مذاکرات اگلے ہفتے شروع ہونے کی امید ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ریڈ کراس کا قافلہ خان یونس شہر سے نکلا اور تین اسرائیلی یرغمالیوں کو لے کر کرم شالوم کراسنگ پر پہنچا جہاں اسرائیلی فوج نے رہا ہونے والے اپنے تین ساتھیوں کا استقبال کیا۔ بعد میں اسرائیل نے عوفر جیل سے 369 فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کردیا۔
-
ٹرمپ کی دھمکی: غزہ پر سخت موقف اختیار کروں گا
حماس کی جانب سے اگلے ہفتے کو غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے ...
مشرق وسطی -
رہائی سے قبل غزہ کے ساحل پر روسی قیدی کی چہل قدمی کے مناظر
اسلامی جہاد کے عسکری ونگ ’سرایا القدس‘ نے روسی صدر ولادیمیر پوتین کی درخواست پر ...
مشرق وسطی -
غزہ: بے گھر فلسطینی تباہ شدہ گھروں کی طرف رواں دواں، پینے کے پانی کی سنگین قلت
غزہ میں اسرائیل کی جنگ روکنے کے لیے کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد شروع کرنے کے بعد سے ...
مشرق وسطی