ہم نے دمشق کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ نہیں کیا: پہلے تصدیق کے بعد تہران کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے اس بات کی تصدیق کرنے کے بعد کہ کوئی بھی حکومت یا انتظام جسے شامیوں کی حمایت حاصل ہے اسے ایران کی حمایت بھی حاصل ہوگی تہران نے اب شام کی نئی انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی موجودہ رابطے کے وجود سے انکار کردیا ہے۔ حکومتی خاتون ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی پیغامات کا تبادلہ نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایران شام کو محفوظ اور مستحکم دیکھنا چاہتا ہے۔ شامیوں کے وقار اور اس کی علاقائی سالمیت کا تحفظ کرتا ہے۔

یاد رہے ایران کے معاون وزیر خارجہ برائے سیاسی امور مجید تخت روانچی نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ شام کے نئے حکمرانوں کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے رابطہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ دمشق نے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ایرانی سامان کے داخلے کو روک دیا تھا۔ ایرانی شہریت کے حامل مسافروں کو بھی ملک میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

دریں اثنا دمشق اور تہران کے درمیان تعلقات اب بھی سرد ہیں۔ خاص طور پر جب سے ایرانی حکام نے سابق صدر بشار الاسد کی برسوں سے حکومت کی حمایت کی ہے۔ واضح رہے عبوری دور کے لیے شام کے صدر احمد الشرع نے ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک اب تہران کے لیے ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لیے راہداری نہیں رہے گا۔ تاہم انھوں نے باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کی اپنی کوششوں پر زور دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں