ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے اس بات کی تصدیق کرنے کے بعد کہ کوئی بھی حکومت یا انتظام جسے شامیوں کی حمایت حاصل ہے اسے ایران کی حمایت بھی حاصل ہوگی تہران نے اب شام کی نئی انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی موجودہ رابطے کے وجود سے انکار کردیا ہے۔ حکومتی خاتون ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی پیغامات کا تبادلہ نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایران شام کو محفوظ اور مستحکم دیکھنا چاہتا ہے۔ شامیوں کے وقار اور اس کی علاقائی سالمیت کا تحفظ کرتا ہے۔
یاد رہے ایران کے معاون وزیر خارجہ برائے سیاسی امور مجید تخت روانچی نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ شام کے نئے حکمرانوں کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے رابطہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ دمشق نے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ایرانی سامان کے داخلے کو روک دیا تھا۔ ایرانی شہریت کے حامل مسافروں کو بھی ملک میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔
دریں اثنا دمشق اور تہران کے درمیان تعلقات اب بھی سرد ہیں۔ خاص طور پر جب سے ایرانی حکام نے سابق صدر بشار الاسد کی برسوں سے حکومت کی حمایت کی ہے۔ واضح رہے عبوری دور کے لیے شام کے صدر احمد الشرع نے ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک اب تہران کے لیے ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لیے راہداری نہیں رہے گا۔ تاہم انھوں نے باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کی اپنی کوششوں پر زور دیا ہے۔
-
کسی بھی امریکی یا اسرائیلی حملے کو روکنے کے لیے ایران کا نئے آپشنز کا مطالعہ
شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے اور شام اور لبنان میں اس کے اثر و رسوخ میں ...
مشرق وسطی -
ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے:امریکہ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے زور دے کر کہا ہے کہ ان کے ملک کو "ایران پر مزید ...
بين الاقوامى -
ایرانی عہدیداروں کے شام کی نئی انتظامیہ کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے متضاد بیانات
ایرانی عہدیداروں کی جانب سے شام کی نئی انتظامیہ کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے متضاد ...
مشرق وسطی