بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ارد گرد اب بھی کشیدگی برقرار ہے۔ حزب اللہ کے حامیوں نے ہفتے کے روز ہوائی اڈے کی سڑک کو دونوں سمتوں سے بند کر دیا ہے۔
انہوں نے حزب اللہ کے جھنڈے اور پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کی تصاویر بھی اٹھائیں اور پارٹی کے نعرے لگائے۔ لبنانی فوج ہوائی اڈے کے داخلی راستے پر فوجی کمک لے آئی ہے۔
یونیفل گشت کو روکنے کی کوشش
دریں اثنا لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (UNIFIL) کا ایک گشت وہاں سے گزرا جس کے ساتھ لبنانی فوج میں ملٹری پولیس کی گاڑی بھی تھی۔ حزب اللہ کے متعدد حامیوں نے گشت کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ تاہم آرمی انٹیلی جنس کے ارکان نے ہوائی اڈے کی طرف اس کا راستہ محفوظ کرنے اور پارٹی کے حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے کام کیا۔
اس کے بعد حزب اللہ کے حامیوں اور فوج کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔ حزب اللہ حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ سڑک پر افراتفری پھیل گئی۔ پارٹی کے متعدد حامیوں نے فوج کے ارکان پر پتھراؤ کیا۔
جواب میں ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ حزب اللہ نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ آج سہ پہر ہوائی اڈے کی سڑک پر دھرنا دیں۔ یونیفل کے گشت کو حزب اللہ نے اسرائیلی مداخلت، آمرانہ حالات اور قومی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
یونیفل کے قافلے پر حملہ
واضح رہے جمعہ کی شام کو حزب اللہ کے متعدد حامیوں نے جنوبی لبنان میں سرگرم یونیفل کے قافلے پر اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ بیروت ہوائی اڈے کی طرف جا رہا تھا۔ اس حملے میں یونیفل کے ڈپٹی کمانڈر زخمی ہو گئے۔ یونیفل نے اس حملے پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
جمعرات کی شام بیروت ایئرپورٹ کے آس پاس حزب اللہ کے وفاداروں کی طرف سے ہنگامہ آرائی اس وقت بھی ہوئی جب لبنانی مسافروں کو لے جانے والے دو ایرانی طیاروں کو بیروت ہوائی اڈے پر اترنے سے روک دیا گیا تھا۔
-
پروازوں کی بحالی سے متعلق لبنان سے بات چیت کے لیے تیار ہیں: ایران
اپنے دو طیاروں کے بحران کے بعد ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ تہران اور بیروت کے ...
مشرق وسطی -
بیروت میں یونیفل کے قافلے پر حملہ: لبنان کے صدر کی جانب سے مذمت
حملے میں ڈپٹی فورس کمانڈر زخمی
مشرق وسطی -
طیارہ بحران کا رد عمل، ایران نے طیاروں کی لینڈنگ کی لبنانی درخواست مسترد کردی
ایرانی طیارہ جسے درجنوں لبنانی زائرین لے کر بیروت کے ہوائی اڈے پر جانے سے روک دیا ...
مشرق وسطی