حماس کی تحلیل کے بغیر اسرائیل معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا : ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک با خبر اسرائیلی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ حماس کو غیر مسلح کیے جانے کی آمادگی کے بغیر اسرائیل فائر بندی معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا۔
ذریعے نے مزید بتایا کہ اسرائیلی حکام غزہ کے مستقبل ، حماس سے ہتھیار لینے اور اس کا اختیار ختم کرنے پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات اسرائیلی ٹی وی 'چینل 12' نے بتائی۔

اسی طرح یہ بات بھی باور کرائی گئی ہے کہ اسرائیل قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں سخت موقف اپنائے گا۔ اسرائیل فائر بندی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے بشرطے کہ بقیہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک مخصوص مدت کے دوران میں بات چیت کی جائے جو غزہ میں ابھی تک یرغمال ہیں۔

ذریعے نے زور دیا ہے کہ تل ابیب زندہ یرغمالیوں کی رہائی پر مذاکرات کے بغیر غزہ میں امداد داخل نہ ہونے دینے پر قائم ہے۔

مزید یہ کہ اسرائیل کو اس موقف میں امریکا کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ فائر بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا معاملہ اسرائیل پر چھوڑ دیا گیا ہے اور واشنگٹن اسرائیل کے موقف کو سپورٹ کرتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدے کا پہلا مرحلہ کل بروز ہفتہ اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ دوسری جانب قاہرہ میں بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

یاد رہے کہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 33 اسرائیلیوں کی رہائی مذکور ہے جس کے مقابل تقریبا ایک ہزار فسلطینیوں کو آزاد کیا جانا ہے۔ اس کے علاوہ غزہ کے بعض علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلا اور امداد کی ترسیل بھی شامل ہے۔

اس وقت 58 کے قریب اسرائیلی غزہ میں بطور قیدی موجود ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان میں 35 سے زیادہ مارے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں