شام اور روس کے مذاکرات میں گیس فیلڈز میں ماسکو کی سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

حکام نے وال اسٹریٹ جرنل کو تصدیق کی ہے کہ روس شام میں اپنے فوجی اڈوں کو برقرار رکھنے کے لیے ایک معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یورپی اور شامی حکام نے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کو بتایا ہے کہ روس شام میں اپنے فوجی اڈوں کو برقرار رکھنے کے لیے ایک معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دمشق ماسکو کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا باب کھولنا چاہتا ہے۔

حکام نے مزید کہا کہ شام اور روس کے مذاکرات میں ماسکو کو اربوں ڈالر کی نقد رقم ادا کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ماسکو نے گیس فیلڈز اور بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے۔

ان معاہدوں میں طرطوس کی بندرگاہ کی تعمیر کا ایک نیا مرحلہ شامل ہے، پالمیرا کے علاقے میں غیر ملکی قدرتی گیس کی بڑی رعایتیں، فاسفیٹ کی کانیں ، ہائیڈرو کاربن فیلڈز کی تیاری اور وسطی شام میں حمص میں کھاد کے پلانٹ لگانے کی تجاویز شامل ہیں۔

حکام نے مزید کہا کہ روس اور شام کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شامی شہریوں پر بمباری میں ماسکو کے کردار کے لیے ممکنہ معافی بھی شامل ہے۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کے مطابق مذاکرات میں دمشق کی جانب سے معزول صدر بشار الاسد کو حوالے کرنے کی درخواست بھی شامل تھی لیکن روسیوں نے اس پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔

حکام کے مطابق یہ بات چیت اس وقت شروع ہوئی جب روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف اور شام کے لیے روس کے ایلچی الیگزینڈر لاورینتیف جنوری میں دمشق پہنچے تھے۔

اخبار نے کہا کہ روس نے گزشتہ ماہ شامی پاؤنڈز میں 23 ملین ڈالر کے مساوی رقم دمشق کے مرکزی بینک کو سرکاری شرح مبادلہ پر فراہم کی تھی۔

شام کو بدھ کے روز روس میں چھپی مقامی کرنسی کی ایک نئی کھیپ موصول ہوئی۔ ایک سرکاری اہلکار نے رائیٹرز کو بتایا روس کی طرف سے رقم شام کو پہنچائی گئی ہے تاہم انہوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

گذشتہ فروری میں شام کے مرکزی بینک نے تعداد ظاہر کیے بغیر دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ذریعے شامی لیرا کی روس سے شام پہنچنے کی تصدیق کی تھی۔

یہ تصدیق اس وقت ہوئی جب 14 فروری 2025ء کو ایک مال بردار طیارے کی روس سے رقم لے کر دمشق کے ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بارے میں بتایا گیا، ذرائع نے بتایا کہ روس نے ایران میں چھاپی رقم تہران سے واپس لے لی تھی اور اسے شام بھیج دیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام کے صدر احمد الشرع نے روس سے وہ رقم مانگی جو سابق حکومت کےسربراہ بشار الاسد نے ماسکو میں جمع کرائی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں