برطانیہ اور فرانس نے شام کے ساحل پر سکیورٹی فورسز اور سابق صدر بشار الاسد کے وفادار عسکریت پسندوں کے درمیان خونریز تصادم کو "خوفناک" اور "ناقابل قبول" قرار دے دیا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا ہے کہ شام کے ساحلی علاقوں میں بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکت کی خبریں "خوفناک" ہیں۔ انہوں نے دمشق میں حکام پر زور دیا کہ وہ تمام شامیوں کو تشدد سے بچائیں۔
ڈیوڈ لیمی نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر بیان میں مزید کہا ہے کہ دمشق میں حکام کو تمام شامیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے اور عبوری انصاف کے لیے واضح راستہ قائم کرنا چاہیے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ جین نول باروٹ نے بھی اتوار کو کہا کہ شام میں شہریوں کے خلاف کی جانے والی خلاف ورزیاں ناقابل قبول ہیں۔ ان شہریوں کے تحفظ کی ضمانت ہونی چاہیے۔ ان جرائم کے مرتکب افراد کو سزا سے نہیں بچنا چاہیے۔ امریکہ نے شامی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ان لوگوں کا احتساب کریں جنہوں نے شام میں ہلاکت خیز کارروائیاں کی ہیں۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ملک میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
ایک آزاد کمیٹی کا قیام
دوسری جانب شام کے ایوان صدر نے اتوار کے روز جھڑپوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیٹی کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔
ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر شائع ہونے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 6 مارچ 2025 کو شام کے ساحل پر پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات اور حقائق تلاش کرنے والی کمیٹی سات افراد پر مشتمل ہے۔ یہ کمیٹی ان خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے گی اور ذمہ داروں کی نشاندہی کرے گی۔
واضح رہے جمعرات سے شام کے ساحلی علاقوں، جن میں علوی فرقے کی اکثریت آباد ہے، میں کئی علاقوں میں ایک سکیورٹی گروپ کی جانب سے ایک مطلوب شخص کو گرفتار کرنے کے بعد کشیدگی اور جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔
-
شامی میڈیا: ملکی سکون برباد کرنے کے پیچھے ایران اور حزب اللہ ہیں
شام کی وزارت دفاع میں تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر علی الرفاعی نے کہا ہے کہ ایران اور ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کو شام میں شہریوں کی ہلاکت پر تشویش ، یورپ سے نوٹس لینے کا مطالبہ
غزہ میں 48000 سے زائد فلسطینیوں کے قتل عام کے بعد جنگ بندی سے گزرنے والے اسرائیل ...
مشرق وسطی -
اقوام متحدہ : شام میں شہری ہلاکتوں کو فوری روکا جائے
اقوام متحدہ نے زور دے کر کہا ہے کہ شام کے شمالی علاقے میں بعض خاندانوں کی ہلاکتوں ...
مشرق وسطی