سعودی عرب میں 2023 میں انگور کی پیداوار 122,000 ٹن سے تجاوز کر گئی جو مقامی زرعی شعبے کی ترقی اور مارکیٹ کی طلب کا ایک بڑا حصہ پورا کرنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے، یہ بات سعودی پریس ایجنسی نے ہفتے کے روز کہی۔
رپورٹ میں وزارت برائے ماحولیات، پانی و زراعت (ایم ای ڈبلیو اے) کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار مملکت میں موجودہ مارکیٹ کی طلب کا 66 فیصد ہے۔
ایم ای ڈبلیو اے نے کہا، انگور کے 7.13 ملین سے زیادہ پودے ہیں جن میں 6.1 ملین سے زیادہ پھل ہیں۔
گذشتہ سال ایک علیحدہ رپورٹ میں وزارت نے مملکت کے طول و عرض میں انگور کی پیداوار کا رقبہ 4,720 ہیکٹر بتایا تھا۔
اسی رپورٹ میں تبوک کی انگور پیدا کرنے والے سرِفہرست خطہ کے طور پر نشان دہی کی گئی جہاں سے سالانہ 46,939 ٹن کی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اور قصیم، حائل اور عسیر نے بھی قومی پیداوار میں اہم کردار ادا کیا۔
انگور کی کاشت کاری کو منافع بخش سمجھا جاتا ہے کیونکہ پانی کی کم از کم ضرورت والی مختلف زمینوں میں کاشت آسانی ہوتی ہے۔ یہ پودا سعودی عرب کے مختلف موسموں سے بآسانی مطابقت پذیر ہو سکتا ہے۔
کاشتکاروں کو انگور لگانے کی ترغیب دینے کے لیے وزارت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سمارٹ آبپاشی کے نظام اور نامیاتی کاشتکاری جیسی جدید ٹیکنالوجیز فراہم کر کے ان کی معاونت اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
وزارت کا مقصد مقامی پھلوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہےکیونکہ انگور غذائی اجزاء سے بھرپور اور صحت کے لیے کئی فوائد کے حامل ہوتے ہیں۔
وزارت نے کہا کہ انگور کی کٹائی کا موسم جون سے ستمبر تک ہوتا ہے۔