اسرائیل: غزہ میں موجود قیدیوں کے رشتہ داروں کو نئی اسرائیلی جنگ نے خوف میں مبتلا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

دو ماہ پہلے جب اسرائیل و حماس کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ہوا تھا تو یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ غزہ میں اکتوبر 2023 سے قید کیے گئے اسرائیلی مکمل رہائی تک پہنچ جائیں گے۔

ھیروت نمرودی کا خیال تھا کہ اس کا بیٹا بھی بالآخر غزہ سے رہائی پانے میں کامیاب رہے گا۔ اس کا بیٹا 20 سالہ اسرائیلی فوجی ہے۔ جس کے لیے امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے دوران رہائی پانے والے اسرائیلی قیدیوں میں شامل ہوگا۔

لیکن منگل کی صبح سے پہلے شروع کی گئی اسرائیل کی غزہ میں نئی جنگ نے خود اسرائیل کے ان خاندانوں اور عوام کو بھی حیران و پریشان کر دیا ہے جو تقریباً ڈیڑھ سال سے اپنے غزہ میں قید عزیزوں کے لیے رہائی کی مہم چلا رہے تھے۔ انہیں خوف بھی ہے کہ اسرائیلی بمباری کی زد میں آکر ان کے قید رشتہ دار بھی ہلاک نہ ہو جائیں۔

نمرودی اس بمباری میں خوفزدہ ہے کہ شاید اب اس کا بیٹا کبھی واپس نہ آسکے۔

اس نے کہا 'میں نے چاہا تھا کہ یقین کروں کہ میرا بیٹا جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں ضرور رہا ہو جائے گا اور دوبارہ جنگ شروع نہیں ہوگی۔ لیکن اب میری امید کی عمارت ڈھے چکی ہے۔ اس لیے مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے کہ اب غزہ میں قید میرے بیٹے کا مستقبل کیا ہے۔ '

خیال رہے 60 کے قریب اسرائیلی خاندان اپنے پیاروں کی غزہ سے رہائی کے لیے فکر مند ہیں اور وہ مسلسل تل ابیب کی سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان میں سے دو درجن قیدیوں کے بارے میں اب بھی امید ہے کہ وہ زندہ بچ گئے ہوں گے۔

جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران جو 19 جنوری سے شروع ہوا تھا حماس نے 25 اسرائیلی قیدی رہا کیے ہیں اور آٹھ قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کو بھجوائیں۔ اس کے بدلے میں تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہائی دی گئی۔

لیکن اس ماہ کے شروع سے جب جنگ بندی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا ہے اسرائیل و حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے اتفاق کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

الٹا اسرائیل نے نئے سرے سے غزہ میں جنگ شروع کر کے تقریباً ساڑھے چار سو فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے جن میں 170 سے زائد بچے اور 80 خواتین شامل ہیں۔

اسرائیل کی اس جنگ نے نمرودی جیسے کئی اسرائیلیوں کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے کہ اب ان کے غزہ میں قید عزیز زندہ بھی بچ سکیں گے یا نہیں کیونکہ پورے غزہ میں اسرائیل اندھا دھند بمباری کر رہا ہے۔

نمرودی کے فوجی بیٹے کو سات اکتوبر کو ایک فوجی اڈے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن اب وہ اس کی زندگی کی امید کم ہی رکھتی ہیں۔ اگرچہ اس کی موت کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

نمرودی کہتی ہیں یہ ایسی تکلیف دہ صورتحال ہے جو اسرائیلی حکومت کے فیصلوں سے پیدا ہوئی ہے۔ نیتن یاہو اور ان کے انتہا پسند وزیروں نے تباہ حال غزہ پر رمضان المبارک میں دوبارہ جنگ شروع کر رکھی ہے۔ نہ صرف فلسطینیوں کے لیے نسل کشی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے بلکہ خود اپنے اسرائیلی قیدیوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اسرائیل تمام تر اندرونی و بیرونی دباو کے باوجود جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی طرف آنے کو تیار نہیں ہے۔ قیدیوں کے اہل خانہ، رشتہ دار اور دوستوں کے علاوہ ہزاروں اسرائیلی سڑکوں پر نیتن یاہو حکومت کی نئی شروع کردہ جنگ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا جنگی فیصلہ ناقابل قبول ہے۔

اودی گورن کے مطابق ہر طرف تباہی نظر آرہی ہے۔ کوئی ایسی شکل نظر نہیں آتی کہ ہمارے غزہ میں قید بچے کیسے واپس آسکیں گے۔ جو پہلے غزہ میں قید تھے، بھوک و قحط کی زد میں تھے۔ اب ان پر اوپر سے بمباری کی جا رہی ہے۔

سات اکتوبر کو قتل ہونے والے تل ھاہیمی کے کزن اودی گورن کا کہنا ہے بین الاقوامی برادری کو اسرائیل و حماس دونوں کے مذاکرات کاروں پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ شروع ہو سکے۔

اسرائیل کی جنگ میں واپسی؟

غزہ میں قید رہنے والے عمر وینکرٹ نے کہا 'جنگ بندی کے آخری مرحلے میں واپس آنے والے جنگ میں واپس چلے گئے ہیں اور ہم نے اب کسی سے ایک بار بھی یہ نہیں سنا کہ ہم حتمی معاہدے کی طرف واپس آرہے ہیں۔'

ایک اور سابقہ قیدی رومی گونن نے کہا وہ اس بات کو کبھی نہیں بھول سکیں گی کہ غزہ میں قیدیوں کی بمباری کے دوران کیا کیفیت ہوتی ہے۔ ان قیدیوں کو بمباری کی گھن گرج سن کر کبھی یقین نہیں ہوپاتا کہ وہ اب کبھی آزاد ہو سکیں گے۔

گونن نے کہا میں اسرائیل کے لوگوں سے اپیل کرتی ہوں کہ ہمیں ان کی رہائی کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے۔

سلوا کونیو کے دو بیٹے غزہ میں قید ہیں۔ ان کا غزہ میں جنگ دوبارہ شروع کرنے پر اسرائیلی رہنماؤں کے بارے میں کہنا ہے مجھے لگتا ہے کہ ان کے سینے میں دل نہیں ہے۔ یہ درست نہیں ہے کہ جنگ کو جاری رکھا جائے۔ میں اپنے بچوں کی گھر واپسی چاہتی ہوں۔ اگر وزیر اعظم نیتن یاہو مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر لیں کیونکہ میں پہلے ہی اس طرح کی کیفیت سے گزر رہی ہوں۔

ھیروت نمرودی نے کہا وہ غزہ پر اسرائیلی بمباری سے اس لیے بھی پریشان ہیں کہ ان کا بیٹا غزہ میں قید ہے۔ غزہ میں قید اسرائیلیوں کی اس بمباری سے حالت اور بری ہو جاتی ہے اور ان کی زندگی ہر وقت خطرے میں رہتی ہے۔ انہوں نے کہا وہ خوفزدہ ہیں کہ ان کا بیٹا کب واپس آئے گا۔ لیکن وہ اپنے بیٹے کی رہائی کی کوششوں کو تل ابیب کی سڑکوں پر احتجاج کر کے ہر صورت جاری رکھیں گی۔

ان کا خیال تھا کہ اس موقع پر مضبوط رہ کر ہی امید کر سکتے ہیں کہ ہمارے قیدی بچوں سے ہماری ملاقات ہو جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں