اسرائیلی وزیر اعظم کے سینیئر مشیر اوفیر فلک کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ پر بمباری جاری رکھے گا ، اس کے نتیجے میں حماس پر دباؤ بڑھایا جا سکے گا اور وہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے جلدی تیار ہو جائے گا۔
نیتن یاہو کے سینیئر مشیر نے یہ بات یورپی ملکوں کی طرف سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ سامنے آنے پر ہفتے کے روز کہی ہے۔ اسرائیل نے جنگ کا نیا سلسلہ 18 مارچ سے دوبارہ شروع کیا ہے ۔ یورپی ملکوں نے غزہ کی ناکہ بندی ختم کرکے امدادی اشیا کی غزہ کے لیے ترسیل بھی کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔
نیتن یاہو کے خارجہ امور کے لیے سینیئر مشیر نے مزید کہا ۔ یہ فوجی اور جنگی دباو ہی تھا جس نے نے سب سے پہلے نومبر 2023 میں حماس کو مختصر جنگ بندی کے لیے مجبور کر دیا تھا اور ہمارے80 قیدی رہا ہو گئے تھے۔اب 59 بقیہ قیدی بھی اسی طرح رہا ہو سکیں گے۔
انہوں نے رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا حماس کو مذاکرات کی میز پر لا کر قیدی چھڑوانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ اس پر جنگی دباؤ ڈالا جائے۔
19 جنوری سے کئی ہفتے کے لیے جنگ سے بچا رہنے والا تباہ شدہ غزہ پر اسرائیل نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی طرف جانے لیے مذاکرات کی بجائے ہتھیاروں اور بارود کا سہارا لیا ہے۔
فضائی بمباری کے علاوہ زمینی فوج اور اسرائیلی بحریہ بھی 18 مارچ سے اس جنگ میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ اب تک سینکڑوں فلسطینی محض چند دنوں ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر اسرائیلی فوج اس جنگ میں 50000 کے قریب فلسطینیوں کو قتل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق بمباری کرتے ہوئے 20 مارچ کو فلسطینیوں کو دباؤ میں لاتے ہوئے انتباہ کیا گیا کہ ان کے پاس یہ آخری موقع ہے کہ وہ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کر رکے واپس کریں اور حماس کے اقتدار کا غزہ سے خاتمہ کریں۔
تاہم فلک نے اس سلسلے میں تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ۔ کہ مذاکرات جنگ بندی کو بھال کر سکین گے۔ البتہ انہوں نے کہا اسرائیل کو امریکی صدر کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف کی طرف سے تجاویز مل چکی ہیں۔
سینیئر مشیر نے کہا ' میں تفصیلات تو نہیں دوں گا مگر یہ بتا سکتا ہوں کہ ہم مسلسل کامیابی اپنے تمام تر کے حوالے سے حاصل کر رہے ہیں۔
حماس کے علاوہ دنیا کے ملکوں کی بڑی تعداد یہ کہہ رہی ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے ماحول میں نئے سرے سے جنگ شروع کر دی ہے۔ حتیٰ کہ یورپ کے تین بڑے ملکوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی اسرائیل سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ کہنا ہے کہ اسے امریکی نمائندے کی تجاویز ملی ہیں اور وہ ان کا جائزہ لے رہی ہی ہے۔
ان تینوں اہم یورپی ملکوں نے اسرائیلی فوج کی طرف سے کی گئی غزہ کی ناکہ بندی ختم کر کے امدادی اشیا کی ترسیل فوری طور پرکھولے ۔