اسرائیلی کابینہ میں اتوار کے روز اٹارنی جنرل کے خلاف عدم اعتماد کے حق میں ووٹنگ مکمل ہو گئی ہے۔ تاہم ووٹ کی کامیابی کے باوجود اسرائیل کے وزیر برائے انصاف نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے اس سے ملک میں سیاسی لڑائی میں اضافہ ہو جائے گا ۔
وزیر انصاف وزیراعظم نیتن یاہو کے بارے میں کھلے عام تنقید کرنے والے وزراء میں سے ہیں۔
کابینہ سے اٹارنی جنرل گالی بحراو میارا کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے باوجود ان کی برطرفی کے لیے مزید اقدام ابھی ضروری ہیں۔ یہ ان کی برطرفی کا پہلا قدم تھا اور اس سے دو روز پہلے حکومت نے داخلی سلامتی سے متعلق ادارے شین بیٹ کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
تاہم اسرائیلی سپریم کورٹ نے حکومت کے اس فیصلے کو روک دیا ہے اور شین بیٹ کے سربراہ رونن بار اور اٹارنی جنرل کی جگہ پر وزیراعظم نئے لوگوں کو تعینات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے کہ کسی اسرائیلی حکومت نے داخلی سلامتی سے متعلقہ امور کو ڈیل کرنے والی سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کو اس طرح برطرف کیا ہے اور اب اٹارنی جنرل کی باری آگئی ہے۔
وزیراعظم کے دفتر نے کیبنیٹ میٹنگ کے ایجنڈے کے بارے میں کہا 'حکومت اٹارنی جنرل کے خلاف ووٹ سے برطرفی کا فیصلہ لائے گی کہ ان کا رویہ مختلف حکومتی معاملات کو خوامخواہ طوالت دینے کا رہا ہے۔ نیز حکومت اور حکومت کے قانونی مشیر کے درمیان بھی اختلافات کو طوالت دی ہے۔'
جمعہ کے روز اسرائیلی عدالت نے شین بیٹ کی برطرفی کے حکم نامے کو روک دیا۔ یہ عدالتی فیصلہ پانچ مختلف اپیلوں پر سامنے آیا۔ ان میں ایک اپیل اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ کی جماعت نے بھی فائل کی تھی۔
اگلی تفصیلی سماعت 8 اپریل کو ہوگی۔ جس میں عدالت کے تین فاضل جج حضرات سماعت کریں گے۔ اس بنچ کی صدارت چیف جسٹس اضحاک امیت کریں گے۔ یہ بات اسرائیلی کورٹ کے ترجمان نے 'اے ایف پی' کو بتائی ہے۔
اسرائیل کی سلامتی میں ناکامی
اپوزیشن کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کے فیصلے کے خلاف دو اہم وجوہات موجود ہیں۔ ان میں سے ایک 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی غزہ میں اسرائیلی جنگ ہے کہ اسرائیل کی سلامتی میں ناکامی کا سامنا رہا۔ جبکہ نیتن یاہو کے قریبی ساتھیوں کی قطر سے رقوم کی وصولی پر شین بیٹ کی تفتیش ہے۔
نیتن یاہو حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ 'جعلی خبریں' ہیں۔
شین بیٹ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو شین بیٹ کے نئے سربراہ کا تذکرہ نہیں کریں گے۔ نیز رونن بار کے خلاف کی جانے والی کوئی بھی کارروائی ممنوع ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ شین بیٹ کی سربراہی کے لیے کسی کو مقرر کرنا منع ہے جبکہ اس سلسلے میں انٹرویوز بھی نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل سینکڑوں اسرائیلی مظاہرین نے پارلیمان اور وزیراعظم نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کیا۔
اسرائیلی وزیر انصاف یاریو لیون نے کہا اٹارنی جنرل کو سیاسی مقاصد کے لیے اپنے عہدے کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں حکومتی کام مفلوج ہو جاتے ہیں۔