غزہ میں صرف دو ہفتوں کی خوراک رہ گئی : عالمی خوارک پروگرام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خورک نے خبردار کیا ہے کہ اس کے پاس غزہ کے زیر محاصرہ اور بے گھر لوگوں کے لیے صرف دو ہفتوں کی خوراک باقی رہ گئی ہے۔ واضح رہے غزہ میں لاکھوں لوگوں کو بھوک اور انسانی ساختہ قحط کا سامنا رہا ہے۔

عالمی پروگرام برائے خوراک کے مطابق تقریباً اس وقت اس کے پاس پانچ ہزار سات سو ٹن خوراک موجود ہے۔ تاہم یہ خوراک اگلے صرف دو ہفتوں کے لیے کافی ہے۔ یہ بات خوراک پروگرام کی طرف سے ایک جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔

خیال رہے اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کو آگے بڑھانے کے بجائے 18 مارچ سے دوبارہ غزہ میں جنگ چھیڑ دی گئی ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوج نے پہلے ہی تقریباً ایک ماہ سے غزہ میں امدادی سامان اور خوراک کی ترسیل جبرً روک رکھی ہے۔ اب دوبارہ جنگ شروع ہونے سے مزید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔

اقوم متحدہ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اسرائیل کی دوبارہ شروع کی گئی جنگ کے نتیجے میں مزید ایک لاکھ بیالیس ہزار فلسطینی بے گھر ہو گئے ہیں اور انہیں محض سات دنوں کے دوران نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

عالمی خوراک پروگرام نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ اس کا فوڈ سیکورٹی کا شعبہ اس پوزیشن میں نہیں رہا ہے کہ وہ غزہ کو تین ہفتے کے بعد خوراک فراہم کر سکے۔ اس صورت حال میں غزہ کے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اہل غزہ جنہیں خوراک کی قلت کا سامنا ہے ان پر دوبارہ جنگ اس لیے مسلط کی گئی ہے تاکہ حماس پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ مزید معاہدے کے بغیر ہی باقی اسرائیلی قیدی بھی رہا ہو سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں