شام کی نئی حکومت میں شامل اکلوتی خاتون وزیر ہند قبوات کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شام کی نئی حکومت نے کینیڈین شہریت کی حامل ہند قبوات کو کابینہ میں سماجی امور اور محنت کی وزیر کا قلم دان سونپا ہے۔ ہفتے کے روز جاری کردہ اعلان کے بعد وہ شام کی نئی حکومت میں واحد خاتون وزیر بن گئیں۔

نئی حکومت کے اعلان کے موقع پر بات کرتے ہوئے قبوات نے کہا کہ ان کی وزارت کا مقصد "ایک مربوط معاشرے کی تعمیر کرنا ہے جو سماجی انصاف کو فروغ دے جس کی ہمیں طویل عرصے سے کمی ہے"۔

انہوں نے مزید کہاکہ "ہم بطور وزیر اور سول سوسائٹی ایک ساتھ مل کر کام کریں گے۔ہم سب کے درمیان اعتماد کو مضبوط ہونا چاہیے۔ ہمارا اجتماعی مقصد ایک منصفانہ اور پائیدار سماجی نظام ہونا چاہیے جو وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے"۔

احمد الشرع کی قیادت میں شام کی نئی انتظامیہ نے قبوات کو قومی ڈائیلاگ کانفرنس کی تیاری کمیٹی میں شمولیت کے لیے منتخب کیا۔ اس کمیٹی کا اعلان فروری میں کیا گیا تھا۔

ہند قبوات کون ہیں؟

ہند قبوات خواتین کی تنظیموں اور تنازعات کے حل میں ایک نمایاں شخصیت سمجھی جاتی ہے، جس نے حقوق نسواں کی تنظیم تستقل‘ کی بنیاد رکھی اور اس کی نگرانی کی۔ یہ تنظیم تعلیم اور قیام امن کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔ قبوات شام کی سول سوسائٹی میں اپنے فعال کردار کے ساتھ ساتھ شام کی قومی ڈائیلاگ کانفرنس کی تیاری کمیٹی میں اپنی رکنیت کے لیے جانی جاتی ہیں۔

قبوات تنازعات کے حل اور قیام امن میں مہارت رکھنے والی ایک دانشور ہیں۔ انہوں نے متعدد بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور اداروں میں متعدد تعلیمی اور مشاورتی عہدوں پر خدمات انجام دے رکھی ہیں۔

تعلیم اکیڈمک کیریئر

ہند قبوات ہندوستان میں ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئیں اور بعد میں وہ شام چلی گئیں جہاں انہوں نے پرورش پائی اور دمشق یونیورسٹی میں اکنامکس کی تعلیم حاصل کی۔ قبوات نے اپنا تعلیمی کیریئر جاری رکھا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ٹفٹس یونیورسٹی کے فلیچر اسکول آف لاء اینڈ ڈپلومیسی سے قانون اور سفارت کاری میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ اس نے بیروت کی عرب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔

ایوارڈز اور آنرز

قبوات کو بین المذاہب مکالمے اور تنازعات کے حل کے لیے ان کی کوششوں کے اعتراف میں متعدد ایوارڈز ملے ہیں۔ نمایاں ایوارڈز میں نیویارک میں ٹیننبام سینٹر فار انٹرفیتھ انڈرسٹینڈنگ کی جانب سے پیس میکرز ان پریکٹس ایوارڈ، 2007ءجارج میسن یونیورسٹی پبلک ڈپلومیسی ایوارڈ 2009، بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینے کے لیے جاری کوششوں کے اعتراف میں۔

شام کے انقلاب اور سیاسی مذاکرات میں ان کا کردار

سنہ 2011ء میں شامی انقلاب کے بعد ہند قبوات نے شامی اپوزیشن کے اندر ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے سیاسی مذاکرات میں حصہ لیا ہے جس میں بحران کے ممکنہ حل کو تلاش کیا گیا۔ 2015ء اور 2017ء کے درمیان اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہیں اور بین الاقوامی فورمز میں شامی اپوزیشن کی نمائندگی کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

قبوات نے 2017 ءسے 2022ء تک مذاکراتی باڈی کے جنیوا دفتر کی نائب سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے سیاسی اور سفارتی چیلنجوں پر باڈی کی پوزیشنز کو تیار کرنے میں حصہ لیا۔

ہند قبوات کی قیام امن میں شراکت نے ٹورنٹو میں سیریئن سینٹر فار ڈائیلاگ، پیس اینڈ کنسلی ایشن کی بنیاد رکھی اور بین المذاہب امن سازی پروگرام کی ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا، جس کا مقصد خطے میں مختلف عقائد اور کمیونٹیز کے درمیان افہام و تفہیم اور تعاون کو مضبوط کرنا ہے۔

قبوات عالمی بینک کے مشاورتی بورڈ کے مشیر اور رکن کے ساتھ ساتھ انٹرپیس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رکن بھی رہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں