شام کے پیپلز پیلس میں پہلی بار عید کی نماز ادا کی گئی، الشرع کا والد کے ہاتھ پر بوسہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پچھلے سال دسمبر میں شام میں اسد خاندان کےبرسوں پر محیط اقتدار کے خاتمےکے بعد ملک میں پہلی بار شام کے عوام نے قدرے آزادی کی فضا میں عید منائی ہے۔

اس موقعے پر سوشل میڈیا پر شام میں عیدا لفطر کی ادائی کے سرکاری اور عوامی مناظر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ ایسا پہلی بار ہوا کہ شام کے پیپلز پیلس جس جس میں کسی دور میں بشارالاسد حکومت کی اجازت کے بغیر مکھی پر بھی نہیں مارتی تھی میں عوام کی بڑی تعداد نے عید کی نماز ادا کی۔

پیر کی صبح فوٹوگرافروں کی کھینچی گئی ایک تصویر شام میں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے لگی جس میں شام کے صدر احمد الشرع کو عید الفطر کے موقع پر خیر خواہوں کا استقبال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جب ان کے والد حسین الشرع پہنچے تو شامی صدر نے اپنے والد کی دست بوسی کی، پھر جھک کر انھیں گلے لگایا اور انھیں عید کی مبارکباد دی۔ یہ منظر شامی صدر کی والد کو عید کی مبارک باد دینے کا منفرد لمحہ تھا جیسے کیمروں میں ریکارڈ کرلیا گیا۔

قبل ازیں،شام کے صدر الشرع اور نمازیوں کے ایک ہجوم نے دمشق کے پیپلز پیلس میں عید الفطر کی نماز ادا کی۔ ایسا پہلی بار ہوا ہےکہ اس جگہ پر ایسا واقعہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی بار دمشق میں صدارتی محل کے مرکزی ہال میں عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔

الشرع شام اعلیٰ حکام کی موجودگی میں مودار ہوئی جس میں وزیر خارجہ اسعد الشیبانی، فتاویٰ کونسل کے سربراہ شیخ اسامہ الرفاعی اور شامی وزارت دفاع کے دیگر عسکری رہنماؤں کے ساتھ ساتھ شامی حکومت اور شامی شہریوں کے نمائندے بھی شامل تھے۔

سوموار کی صبح شام کے مختلف شہروں میں وزارت اوقاف کی طرف سے مقرر کردہ مساجد اور عوامی مقامات پرعید الفطر کی نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہوئے، جو اسد حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی عید تھی۔

دارالحکومت دمشق کے شمال میں واقع کوہ قاسیون پر واقع نامعلوم سولجر اسکوائر میں پہلی بار نماز عید ادا کی گئی جس میں ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔ شہروں اور قصبوں کے بیشتر چوکوں نے عید الفطر کی نماز کا اہتمام کیا گیا جس میں لاکھوں شہریوں، جوانوں اور بوڑھوں نے شرکت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں