سعودی عرب کے غیر تیل نجی شعبے نے مارچ میں تیزی سے ترقی کی: جائزہ رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے غیر تیل نجے شعبے کی سرگرمیوں میں نئے آرڈرز کی بدولت مارچ میں تیزی سے اضافہ ہوا جس کی وجہ کم قیمتیں اور بہتر معاشی حالات ہیں۔ تاہم پیر کو جاری کردہ ایک سروے کے مطابق جنوری کے تقریباً 14 سال کی بلند ترین شرح کی نسبت اس میں کمی آئی۔

ریاض بینک کا سعودی عرب پرچیزنگ منیجرز انڈیکس (پی ایم آئی) فروری کے 58.4 سے کم ہو کر مارچ میں 58.1 پر آ گیا لیکن 50 کی نمو سے بہت اوپر رہا۔

نئے آرڈرز کا سب انڈیکس فروری میں 65.4 سے کم ہو کر مارچ میں 63.2 پر آ گیا۔

سست رفتار کے باوجود کاروباری ادارے فروخت میں مسلسل اضافے کی توقع کے ساتھ ذخیرہ اندوزی میں مصروف رہے۔

روزگار میں اضافہ فروخت کے حجم میں اضافے اور صلاحیت کو بہتر کرنے کی کوششوں کی بدولت ہوا۔ سروے کے اعداد و شمار نے 12 سالوں میں ملازمت کی تخلیق کے لیے بہترین سہ ماہی کی نشان دہی کی۔

ریاض بینک کے چیف اکانومسٹ نائف الغیث نے کہا کہ بہتر کاروباری حالات کو ریگولیٹری فریم ورک اور انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے حکومتی کوششوں سے مدد ملی ہے جس سے زیادہ نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوئی۔

اپنی معیشت کو ہائیڈرو کاربن کے اخراج سے دور کرنے کے لیے سعودی عرب کے وژن 2030 کا مقصد ہے کہ 2030 تک جی ڈی پی میں غیر تیل کے شعبے کی شراکت کو 65 فیصد تک بڑھایا جائے۔ یہ فی الحال 50 فیصد سے زیادہ ہے۔

اخراجات میں اضافے سے ہونے والی افراطِ زر مارچ میں چار سال کی کم ترین سطح پر آ گئی جس سے کمپنیاں مارکیٹ میں مضبوط مسابقت کے درمیان چھے ماہ میں پہلی بار قیمتِ فروخت کم کرنے پر آمادہ ہوئیں۔

زیادہ آرڈرز اور محدود صلاحیت کی وجہ سے جمع شدہ کام میں تیزی سے اضافہ ہوا جو اگست 2018 کے بعد تیز ترین ہے۔

تاہم سروے میں غیر تیل کی معیشت میں اگلے سال کے لیے کاروباری سرگرمیوں کی توقعات میں نمایاں نرمی ظاہر ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں