ریاض : صحت کے شعبے میں 7 ارب ریال مالیت کے 28 نئے منصوبے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض میں 28 سرکاری، نجی اور غیر منافع بخش صحت کے منصوبے شروع کیے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 7 ارب ریال سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان منصوبوں کی بستروں کی گنجائش 3 ہزار سے زیادہ ہے۔ یہ بات سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA نے بتائی۔

ان منصوبوں کا افتتاح ریاض صوبے کے گورنر شہزادہ فيصل بن بندر نے کیا۔

پہلے طبی مجموعے کے تحت کنگ سعود میڈیکل سٹی کے اندر ویمن، میٹرنٹی اینڈ چلڈرن ہسپتال، کنگ سلمان ہسپتال میں میڈیکل ٹاور الایمان ہسپتال میں میڈٰیکل ٹاور شامل ہیں۔ ان کے علاوہ شہر کے چار علاقوں الحزم، بدر، عكاظ اور الفواز میں طبی مراکز کو جدید بنایا جائے گا۔ ڈائیلسس مراکز اور ڈینٹل کلینک بھی قائم کیے جائیں گے۔

دوسرے طبی مجموعے کے تحت تمیر ہسپتال کی توسیع اور روضہ سدیر میں مرکز صحت کی تعمیر عمل میں آئے گی۔

تیسرے طبی مجموعے کے تحت 9 نئے منصوبے پورے کیے جائیں گے۔ ان میں اہم ترین الدرعیہ جنرل ہسپتال، عبدالمنعم الراشد صحت نگہداشت مرکز، دانتوں کے علاج کے دو مراکز، شقراء ہسپتال میں ہنگامی شعبے کی تجدید، ام المناشیر میں مرکز صحت کا قیام، شقراء ہسپتال میں او پی ڈیز کی تجدید، دوادمی ہسپتال میں اینڈو اسکوپی کے شعبے کا قیام اور ثادق ہسپتال میں ہنگامی شعبے کی تجدید شامل ہے۔

اسی طرح نجی سیکٹر میں صحت کے شعبے سے متعلق 8 نئے منصوبوں کا افتتاح ہوا۔ ان کی مجموعی مالیت 5 ارب ریال سے زیادہ ہے۔ ان میں مدیدہ کمپنی فار میڈیکل کیئر، ریاض میڈیکل ہسپتال، ارتیہ ہسپتال اور بنان میڈیکل ہسپتال شامل ہیں۔

ادھر سعودی وزیر صحت فہد الجلاجل کا کہنا ہے کہ یہ تمام منصوبے صحت کے بنیادی ڈھانچے کی سپورٹ کے سلسلے میں ہیں تا کہ مستفید ہونے والوں کو پیش کی جانے والی خدمات کا معیار بلند کیا جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "عوامی، نجی اور تیسرے شعبے (غیر منافع بخش اداروں) کا باہمی انضمام تبدیلی کے سفر اور ایک مربوط و پائے دار نظامِ صحت کی تعمیر کے لیے ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے، جو صحت سے متعلق چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ انضمام جدت طرازی کو ممکن بنانے، مؤثر اور فعال حل اور ڈیجیٹل نظاموں کو اپنانے، اور طبی ٹیکنالوجی، صحت سے متعلق تحقیق، اور استعدادِ کار کی تعمیر کے شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے میں مدد دیتا ہے، تاکہ سعودی ویژن 2030 کے تناظر میں ایک صحت مند اور متحرک معاشرے تک پہنچا جا سکے".

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں