اسرائیلی فوج کا غزہ بریگیڈ کے ایک اہم کمانڈر کو فضائی حملے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں ایک فضائی حملے میں حماس کے غزہ بریگیڈ کے ایک جنگجو کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ’اویچائی ادرعی‘ نے بدھ کے روز ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ فوج اور شین بیت سکیورٹی سروس نے حماس کے غزہ بریگیڈ کے کمانڈر کے سب سے اہم معاون محمود ابراہیم ابو حصیرہ کو ہلاک کیا ہے۔ یہ جنگجو غزہ بریگیڈز کے ایلیٹ یونٹ میں خدمات انجام دے رہا تھا۔

پانچ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار



انہوں نے مزید کہا کہ "ابو حصیرہ نے 2014ء میں آپریشن پروٹیکٹو ایج کے دوران نہال عوز سائٹ میں دراندازی کی کارروائی میں حصہ لیا تھا، جس کے نتیجے میں پانچ اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے۔ اس وقت وہ ایک سرنگ کے ذریعے اسرائیلی گارڈ پوسٹ میں گھس گیا تھا"۔

انہوں نے کہا کہ غزہ بریگیڈ کے مقتول کمانڈر نےحماس رہنما عزالدین حداد کے ذاتی معاون اور ان کے دست راست کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ فوج کی سرگرمیاں "جلد ہی غزہ کے زیادہ تر حصے پر شروع ہوجائیں گی۔اسرائیلی فوج نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ اس نے "موراگ محور" کا کنٹرول مکمل کر لیا ہے اور جنوبی غزہ کے شہر رفح کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ اسرائیلی فورسز نے تباہ شدہ فلسطینی پٹی پر اپنے چھاپے تیز کر دیے ہیں۔ اس نے شمال اور جنوب میں بفر زون قائم کرنے کے منصوبے کے درمیان متعدد علاقوں کو خالی کر دیا ہے۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان دو ماہ کی جنگ بندی کے بعد 19 جنوری 2025 کو نافذ ہونے والی جنگ بندی گذشتہ مارچ میں ختم ہو گئی تھی ۔ اسرائیلی فوج نے 18 مارچ کو اپنی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کردیا تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں