غزہ: طبی عملے کے لاپتہ رکن کی اہلیہ کی شوہر کی بازیابی کے لیے عالمی برادری سے مدد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے لاپتہ اقوام متحدہ کے طبی عملے کے ایک رکن کی اہلیہ نے عالمی برادری سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے لاپتہ شوہر کو بازیاب کرانے میں عالمی برادری ان کی مدد کرے۔

لاپتہ طبی کارکن کی اہلیہ نفیزہ النصرہ نے کہا ہے کہ انہیں اتنی مدت گزرنے کے باوجود آج تک یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ ان کے شوہر کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔

فلسطینی خاتون نفیزہ النصرہ کے شوہر کو ان کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ اسرائیلی فوج نے 23 مارچ کو اس وقت نشانہ بنایا تھا جب وہ ہلال احمر کی طرف سے ایمبولینس پر اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے موجود تھے۔ اسرائیلی فوج کی اس کارروائی میں 15 طبی کارکن جاں بحق اور ایک لاپتہ ہوگئے تھے۔

اپنے شوہر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے نفیزہ النصرہ نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو اپنے شوہر کی تصویریں دکھائیں جن میں اسد النصرہ طبی عملے کے یونیفارم میں ایمبولینس کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران نظر آرہے ہیں۔

فلسطینی ہلال احمر نے اتوار کے روز یہ انکشاف کیا تھا کہ اسد النصرہ جو 23 مارچ سے لاپتہ تھے ان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اسرائیل نے انہیں ناجائز طور پر یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے۔

23 مارچ کو پیش آنے والا یہ اندوہناک واقعہ صبح سویرے پیش آیا تھا جب غزہ کے جنوبی شہر رفح میں ہلال احمر کے طبی کارکن ایک ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور ریسکیو مشن کے لیے اپنی ڈیوٹی پر موجود تھے۔

ان میں طبی عملے کے 8 ارکان کا تعلق ہلال احمر کے بین الاقوامی ادارے سے تھا۔ جبکہ 6 کا تعلق غزہ کے شہری دفاع کے شعبے سے تھا اور ایک کا تعلق فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی سے تھا۔ ان تمام 15 طبی کارکنوں کو اسرائیلی فوج نے ہلاک کر دیا تھا اور ان کی لاشوں کو تل السلطان میں ایک اجتماعی قبر میں دفن کر دیا تھا۔ جبکہ طبی عملہ کا ایک رکن اسرائیلی فوج نے یرغمال بنا لیا جسے شروع کے تین ہفتوں میں مکمل لاپتہ سمجھا جا رہا تھا۔

فلسطینی ہلال احمر نے اس واقعے کی موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو بھی حاصل کی جو بعدازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور اسرائیلی فوج کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا جو وہ ایمبولینسز کے حوالے سے کر رہی تھی۔

اسرائیلی فوجی حکام نے صحافیوں کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ فائر کرنے والے فوجیوں نے طبی عملے کے ان ارکان کو دہشت گرد سمجھتے ہوئے ان پر حملہ کیا تھا کہ ان سے مقابلہ ہونے جا رہا ہے۔

ملنے والی ویڈیو سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ ایمبولینس گاڑیوں کی لائٹ جل رہی تھی جس سے اسرائیلی فوج کو انہیں پہچاننے میں قطعاً کوئی دقت نہیں تھی لیکن اسرائیلی فوج نے غلط دعویٰ کیا

قتل کا ارادہ

43 سالہ نفیزہ النصرہ نے کہا کہ ان کے شوہر کی باقی ساتھیوں کے ساتھ اجتماعی قبر سے لاش نہیں ملی تھی جبکہ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ اسرائیلی فوج نے ایمبولینس کے اردگرد گھیرا ڈال رکھا تھا۔ اس روز جب میرے شوہر رات گئے گھر واپس نہ آئے تو ہم نے ہلال احمر سے رابطہ کیا تاکہ جان سکیں کہ میرے شوہر کہاں ہیں۔

ہلال احمر کی طرف سے جواب دیا گیا کہ وہ بس اتنا جانتے ہیں کہ ان کے شوہر کو اسرائیلی فوجیوں نے محاصرے میں لے رکھا تھا لیکن بعد میں کیا ہوا کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم کچھ دن بعد ہلال احمر کے دفتر نے نفیزہ النصرہ کو بتایا کہ ان کے شوہر کو اسرائیلی فوجیوں نے اغوا کر لیا ہے۔

نفیزہ کے مطابق یہ اطلاع ملنے پر شروع میں ہمیں قدرے اطمینان ہوا کہ وہ زندہ ہیں۔ لیکن یہ اطمینان جلد ہی پریشانی میں تبدیل ہوگیا کیونکہ اسرائیلی فوج اغوا یا قید کیے گئے فلسطینیوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بناتی ہے اور ہمارا یہ خوف اب بھی جاری ہے۔

اس دوران اسرائیلی ڈرون طیاروں کی نگرانی جاری تھی اور نفیزہ النصرہ کی آواز ان کے شور میں دب گئی۔

فلسطینی طبی کارکن اسد النصرہ کے اسرائیلی فوج کے پاس ہونے کی جب تصدیق ہوئی تو 'اے ایف پی' نے اسرائیلی فوج سے رابطہ کیا جس پر فوج کی طرف سے کہا گیا کہ ان کے پاس اس کے علاوہ اس پر کہنے کے لیے کچھ نہیں کہ فورسز چیف جنرل ایال میر پہلے ہی تحقیقات کا حکم دے چکے ہیں۔

فلسطینی ہلال احمر نے اسرائیلی فوجیوں پر الزام لگایا ہے کہ فوجیوں کا ارادہ ہی ان طبی عملے کے ارکان کے قتل کا تھا کیونکہ اسرائیلی فوجیوں نے ان کے جسم کے اوپر والے حصے میں گولیاں ماری تھیں۔

اسد النصرہ کی اہلیہ اور چھ بچے خان یونس میں پچھلے سال مئی سے ایک خیمے میں گزر بسر کر رہے ہیں کیونکہ وہ بھی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے بے گھر ہو گئے تھے۔

تاہم 43 سالہ نفیزہ پر عزم ہیں کہ ان کے شوہر واپس آئیں گے۔ اس موقع ہر انہوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ ان کے شوہر اسد النصرہ کے بارے میں معلومات دی جائیں اور ان کی بازیابی کے لیے مدد کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں