مساوی وراثت کے فتوے پر مصر میں تنازع، یہ معاملہ اجتہاد پر مبنی نہیں: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جامعہ الازہر میں تقابلی فقہ کے پروفیسر ڈاکٹر سعد الدین الہلالی کی جانب سے وراثت اور وراثت میں برابری کے بیانات سے سے مصر میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر سعد الدین الہلالی نے کہا ہے کہ کوئی ایسا قرآنی متن نہیں ہے جو وراثت میں مرد اور عورت کے درمیان برابری کی ممانعت کرتا ہو۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ مساوات ترکیہ میں 1937 سے پہلے ہی حاصل کی جا چکی ہے۔ یہ مصر میں 2019 کے قانون 148 کے تحت پنشن کی وراثت میں بھی جزوی طور پر موجود ہے۔ اس قانون کے تحت یہ برابری مردوں اور عورتوں کو یکساں طور پر وراثت میں ملتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کچھ خاندانوں میں ایسے رواج ہیں جو وراثت کو مساوی طور پر اور اتفاق رائے سے تقسیم کرتے ہیں۔

ان بیانات نے ایک فقہی بحث پیدا کردی ہے اور مصری دارالافتا نے رضاکارانہ کارروائی یا مقبول ریفرنڈم کی آڑ میں وراثت میں مکمل مساوات کے دعووں کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے پیر کی صبح ایک بیان میں کہا ہے کہ انفرادی عطیہ ایسی عام قانون سازی نہیں کرتا جو عطیہ کی اصل اجازت کو منسوخ کردے اور اسے ایک قانونی ذمہ داری بنا دے۔ علماء کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنی بہن یا کسی اور کو اپنی رقم یا وراثت میں سے اپنے حصے کا عطیہ دے سکتاہے۔ اسی طرح کسی بہن کو اپنے بھائی کو عطیہ کرکے مدد کرنے سے کوئی چیز نہیں روکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ عطیہ دینا ایک خیراتی عمل ہے لیکن اسے عام پابندی والی قانون سازی کے بہانے استعمال کرنا انفرادی عمل اور لازمی قانون سازی کے درمیان الجھن پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ متنازع مفروضوں سے قانونی احکام پیدا نہیں کیے جا سکتے۔

جامعۃ الازہر نے بھی ڈاکٹر سعد الدین الہلالی کا جواب دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ وراثت کے احکام حتمی ہیں اور ان میں تبدیلی یا ان کی من چاہی تشریح نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسلام میں وراثت کے علوم سے متعلق نصوص قطعی، پختہ اور قائم شدہ ہیں جو ہر زمانے کے صحابہ کرام اور علماء کرام کے اجماع کی وجہ سے قابل تشریح یا تبدیلی کے قابل نہیں ہیں۔ یہ وہ قطعی نصوص ہیں جو ہر زمانے، جگہ اور حالات کے لیے موزوں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں