غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جنگ دوبارہ شروع ہونے کے ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے زور دے کر کہا ہے کہ اسرائیلی فوج "حماس کے خلاف اپنی فوجی کامیابیوں کی بھاری قیمت ادا کر رہی ہیں"۔
انہوں نے "ایکس" ویب سائٹ پر ایک ٹویٹ میں مزید کہا کہ "ہزاروں اسرائیلی فوجی اور ریزروسٹ غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی اور حماس کے دہشت گردوں کو تباہ کرنے کے لیے بہادری سے لڑ رہے ہیں"۔
انہوں نے زور دیا کہ "کامیابیاں بہت اچھی ہیں لیکن خطرات بہت زیادہ ہیں اور قیمت بھی زیادہ ادا کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے تمام اسرائیلیوں پر زور دیا کہ وہ عسکری قیادت اور سپاہیوں کی حمایت کرکے ان کے حوصلے بلند رکھیں۔
یہ بیان اسرائیلی فوج کی جانب سے دو روز قبل اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ گذشتہ جمعرات کو لڑائی کے دوران ایک اسرائیلی فوجی ہلک ہوگیا جب کہ جمعہ کو ایک شدید زخمی ہو گیا تھا۔
یسرائیل کاٹز نے ایک سے زیادہ بار خبردار کیا کہ وہ قیدیوں کو رہا کرنے اور حماس کو تباہ کرنے سے پہلے غزہ پر جنگ نہیں روکیں گے۔ اسرائیل نے اس سے قبل 7 اکتوبر 2023ء کو غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران 400 فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا تھا۔
جبکہ غزہ میں وزارت صحت کے اعدادوشمار کے مطابق 51,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے، خواتین اور بوڑھے ہیں۔ ساحلی پٹی میں تقریباً 80 فی صد عمارتیں ۔ بیشتر تر ہسپتال مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے تھے۔ خوراک اور طبی امداد کی کمی کی وجہ سے غزہ میں غذا اور طبی بحران پیدا ہو رہا ہے۔