گراں پری میں سیاحوں کی دلچسپی، قدیم جدہ دوبارہ مرکزِ نگاہ
البلاد کو 2014 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا مقام قرار دیا گیا
جب سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی بندرگاہ جدہ میں اس ماہ گراں پری کے دوران فارمولا ون سٹار لیوس ہیملٹن اور امریکی گلوکارہ جینیفر لوپیز کی میزبانی کی گئی تو مہمان قدیم تاریخی شہر کی طرف بھی راغب ہوئے ہیں جو ایک کم نمایاں مقام ہے۔
ایف ون ایونٹ کے لیے آنے والے زائرین نے بحال شدہ قدیم جدہ کی سست روی کے لیے پسندیدگی محسوس کی۔
عربی میں البلاد کے نام سے معروف قصبے میں بھورے اور نیلے رنگوں میں عربی طرز کے چوبی فنِ تعمیر کے ساتھ گذشتہ صدیوں کا احساس موجود ہے جو صحرائے عرب کی ریت اور سمندر کے درمیان شہر کے محلِ وقوع کی عکاسی کرتا ہے۔
میلان سے تعلق رکھنے والی روزیلا نے کہا، "میں پہلی بار سعودی عرب آئی ہوں اور یہ قدیم شہر زمینی رنگوں کے ساتھ بہت خوبصورت ہے اور اس کا ایک خاص فنِ تعمیر ہے۔"
البلاد کو 2014 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا مقام قرار دیا گیا تھا۔ تب سے حکومت نے تقریباً 650 عمارات کی بحالی اور ضلع کے مقامی کاروبار کے احیاء کے منصوبے تیز کر دیئے ہیں۔
ستاون سالہ فضیل ظاہر قدیم شہر میں پیدا ہوئے اور وہاں ایک کافی بنانے والے کے طور پر کام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاح اور زائرین بڑی تعداد میں البلاد آ رہے ہیں۔
یونیسکو نے تاریخی جدہ کو "بحیرۂ احمر کا واحد زندہ بچ جانے والا شہری اجتماع" قرار دیا جہاں چوبی بالکونیوں سے مزین سنگِ مرجان کے گھر مساجد کے ساتھ ایستادہ ہیں۔ یہ اتنے قدیم ہیں جتنا اس علاقے میں اسلام کی آمد جب خلیفۂ سوئم حضرتِ عثمان بن عفان نے شہر کو مکہ کی سرکاری بندرگاہ قرار دیا تھا۔
الخنبشی بزنس ڈیولپمنٹ بیورو کے جنرل مینیجر احمد الخنبشی نے کہا، "میں 62 سال کا ہوں، میں اب وہ دیکھ رہا ہوں جو میں 40 سال پہلے کیا دیکھ سکتا تھا۔ آپ تبدیلی کی بات کرتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ یہ درحقیقت اپنے اصل کی طرف لوٹ رہا ہے۔"