شامی ایوان صدر نے جمعرات کو صدارتی محل پر بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کی اس کارروائی کو "خطرناک جارحیت" کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ایوان صدر نے اسرائیلی حملے کو ریاست اور اس کے اداروں کی خودمختاری پر حملہ اور شام کو غیر مستحکم کرنے اور سلامتی کو مزید خراب کرنے کی سوچی سمجھی کوشش قرار دیا۔
ایوان صدر نے ایک سرکاری بیان میں اس بات پر زور دیا کہ بمباری "قومی سلامتی اور شامی عوام کے اتحاد کو نشانہ بناتی ہے۔ یہ کارروائی بین الاقوامی برادری اور عرب ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان جارحانہ حملوں کا مقابلہ کرنے میں شام کے ساتھ کھڑے ہوں کیونکہ یہ حملے الاقوامی قوانین اور عالمی کنونشنز کی سنگین خلاف ورزی کی نمائندگی کرتے ہیں۔"
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "جمہوریہ کا ایوان صدر عرب ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت پر متفقہ اور جرات مندانہ موقف اختیار کریں اور ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے شام کی مکمل حمایت کریں۔ اسرائیل کے جارحانہ طرز عمل کا مقابلہ کرنے کے لیے عرب عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں"۔
شامی ایوان صدر نے زور دیا کہ "یہ حملے شامی عوام کی قوت ارادی کو کمزور کرنے یا تمام خطوں میں استحکام اور امن کے حصول کے لیے ان کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ متعلقہ سکیورٹی ایجنسیاں ان حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ضروری تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں‘‘۔
شام کے ایوان صدر نے "تمام فریقین سے قومی اتحاد کے فریم ورک کے اندر بات چیت اور تعاون کا عہد کرنے اور بحران کو طول دینے کی کوششیں ناکام بنائیں‘۔
امریکی بیان
ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ "شام کے عبوری حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کریں، شہریوں کو نقصان پہنچانے والے تشدد کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں اور بغیر کسی استثناء کے تمام شامیوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں"۔
بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ "فرقہ واریت صرف شام اور خطے کو مزید افراتفری اور تشدد کی طرف لے جائے گی۔ شامی طبقات نے اپنے اختلافات کو بات چیت اور گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی اپنی صلاحیت ثابت کی ہے"۔
واشنگٹن نے اپنے بیان کے اختتام پر شام کی مستقبل کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ معاشرے کے تمام طبقات کو نمائندگی دے۔ امریکی حکومت نے شام میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں سمیت تمام فرقوں کے تحفظ اور انضمام کی ضرورت پر زور دیا۔
نیتن یاہو کا دروز اقلیت کے تحفظ کا عہد
اسرائیلی میڈیا نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حوالے سے جمعہ کی صبح کہا کہ اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق میں صدارتی محل کے قریب ایک ہدف پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ شام میں دروز اقلیت کے ارکان کے تحفظ کے تحت کیا گیا۔
یہ دوسرا موقع ہے جب اسرائیل نے دروز اقلیت کے دفاع کا عہد کرنے کے بعد دو دنوں کے اندر شام پر حملہ کیا ہے۔
نیتن یاہو نے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہاکہ ’’گذشتہ رات اسرائیل نے دمشق میں صدارتی محل کے قریب فضائی حملہ کیا‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ "یہ شامی حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ ہم (شامی) افواج کو دمشق کے جنوب میں تعینات کرنے یا دروز کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہونے دیں گے"۔
جمعرات کے روز یسرائیل کاٹز نے خبردار کیا کہ اگر شامی حکام نے دمشق کے قریب دو روز سے جاری جھڑپوں کے بعد دروز اقلیت کی حفاظت نہ کی تو اسرائیل زبردستی جواب دے گا۔
کاٹز نے ایک بیان میں کہاکہ "اگر دروز پر حملے دوبارہ شروع ہوتے ہیں اور شامی حکومت انہیں روکنے میں ناکام رہتی ہے، تو اسرائیل پوری طاقت سے جواب دے گا"۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل نے شام میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد "شام کی حکومت کو واضح پیغام بھیجا"، جس کا مقصد دروز کی حفاظت کرنا تھا۔
-
خفیہ دستاویزات میں شام میں ایران کے "مارشل" منصوبے کا انکشاف: رپورٹ
دمشق میں ایرانی سفارت خانے سے ملی خفیہ دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران ... ...
مشرق وسطی -
الشرع شام کی نمائندگی کرتے ہیں، عرب سربراہی اجلاس میں شرکت اہم ہے : عراقی وزیر اعظم
عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے اعلان کیا ہے کہ عرب سربراہی اجلاس میں شامی ...
مشرق وسطی -
شام کی دروز برادری کے رہنما کی 'نسل کشی مہم' پر تنقید، اسرائیل کا انتباہ جاری
اسرائیل کی جانب سے شامی حکام سے دروز کے تحفظ کا مطالبہ
مشرق وسطی