شام پر حملے 'فوری' بند کیے جائیں: اقوامِ متحدہ کے ایلچی کا اسرائیل پر زور

فرقہ وارانہ تشدد کے بعد شام کو عدم استحکام کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی گیئر پیڈرسن نے ہفتے کے روز اسرائیل پر زور دیا کہ وہ شام پر اپنے حملے فوراً بند کر دے۔ ان میں دمشق کے صدارتی محل کے قریب کیا گیا ایک حملہ بھی شامل ہے جو اس ہفتے کے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد ہوا تھا۔

فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد اسرائیل نے بارہا کہا ہے کہ اس کی افواج دروز اقلیت کی حفاظت کے لیے تیار ہیں۔ اس کے بعد راتوں رات تازہ حملوں کی اطلاع ملی۔ مذکورہ جھڑپوں میں ایک جنگی نگران کے مطابق 119 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر دروز تھے۔

پیڈرسن نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "میں اسرائیل کی جانب سے شام کی خودمختاری کی مسلسل اور بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں بشمول دمشق اور دیگر شہروں میں متعدد فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ میں یہ حملے فوراً بند کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔"

جنگی نگران سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ اس سال اسرائیل کی طرف سے "شدید ترین" اور سب سے بڑی کارروائی میں جمعے کو رات گئے شام کے طول و عرض میں 20 سے زیادہ حملوں میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے دمشق کے قریب اور ملک کے مرکز، مغرب اور جنوب میں حملوں کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ان میں ایک شہری ہلاک ہوا۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے "شام میں ایک فوجی مقام، طیارہ شکن توپوں اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا" لیکن اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

جمعے کی صبح دمشق میں صدارتی محل کے قریب اسرائیلی حملے کے بعد یہ مسلسل حملے ہوئے جسے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے شام کے نئے حکمرانوں کے لیے "واضح پیغام" قرار دیا۔

انہوں نے کہا، "ہم دمشق کے جنوب میں افواج بھیجنے یا دروز کمیونٹی کے لیے کسی خطرے کی اجازت نہیں دیں گے" جو اسرائیل اور لبنان میں بھی پھیلی ہوئی ہے۔

'جنوبی شام میں تعیناتی'

ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ "جنوبی شام میں تعینات ہے اور دروز دیہات کے علاقے میں دشمن قوتوں کا داخلہ روکنے کے لیے تیار ہے۔"

اس نے فوجیوں کی تعداد یا یہ بات واضح نہیں کی کہ آیا یہ نئی تعیناتی تھی۔

جنوب میں شام کی ڈروز کمیونٹی کے مرکز السویداء صوبے میں ڈروز کے ایک اہلکار نے کہا، "وہاں اسرائیلی فوجیوں کی تعیناتی نہیں کی گئی۔"

دروز کے جنگجوؤں اور شامی افواج کے درمیان جھڑپوں کے بعد اس ہفتے دروز علماء اور مسلح دھڑوں نے دمشق کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعادہ کیا جن میں دمشق کے قریب اور السویداء میں حکومت سے منسلک گروہ بھی شامل ہیں۔

آبزرویٹری اور دروز کے رہائشیوں نے کہا کہ نئے حکام سے وابستہ افواج نے دمشق کے قریب جرمانا اور صحنایا پر حملہ کیا جبکہ شام کی حکومت نے تشدد کے لیے "غیر قانونی اور جرائم پیشہ گروہوں" کو موردِ الزام قرار دیا۔

کشیدگی ختم کرنے کے ایک معاہدے کے بعد صحنایا میں حکومتی دستوں کی تعیناتی اور جرمانا کے ارد گرد سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔

ہفتے کے روز بھی اسرائیل کی فوج نے کہا کہ شام کی سرزمین پر زخمی ہونے کے بعد "پانچ شامی دروز شہریوں کو علاج کے لیے راتوں رات اسرائیل منتقل کیا گیا"۔

السویداء میں دروز اہلکار نے کہا کہ وہ "صحنایا میں ہونے والی جھڑپوں میں" زخمی ہوئے اور دمشق کے ہسپتال بھیجے جانے کی صورت میں انہیں حراست میں لیے جانے کا خدشہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں