شام میں دروزی علاقوں میں "دشمن فورس" کا داخلہ روکنے کے لیے تیار ہیں : اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی شام میں تعینات ہو چکی ہے ۔ آج ہفتے کے روز جاری ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ "فوج جنوبی شام میں موجود ہے اور ہم دروز (ایک اقلیتی مذہبی گروہ) کے علاقوں میں دشمن فورس کی پیش قدمی روکنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم حالات کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور ہر ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے چوکس ہیں"۔

مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گذشتہ شب پانچ دروزی شامی شہریوں کو زخمی حالت میں طبی امداد کے لیے اسرائیل منتقل کیا گیا۔ یہ شہری شامی علاقے میں زخمی ہوئے تھے۔

دوسری جانب، اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب پورے شام میں 20 سے زیادہ فضائی حملے کیے۔ ان میں دمشق میں صدارتی محل کے قریب ایک بڑا حملہ بھی شامل تھا۔

واضح رہے کہ دسمبر میں صدر بشار الاسد کی اقتدار سے معزولی کے بعد اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں میں غیر فوجی علاقے میں اپنی افواج تعینات کر دی تھیں۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گیئر پیڈرسن نے ہفتے کے روز اسرائیل سے فوری طور پر حملے بند کرنے کی اپیل کی۔ انھوں نے ان حملوں کو شام کی "خود مختاری کی مسلسل خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر پیڈرسن نے کہا کہ "میں اسرائیل کی طرف سے شام کی خود مختاری کی مسلسل اور بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتا ہوں، جن میں دمشق اور دیگر شہروں پر متعدد فضائی حملے شامل ہیں۔ میں ان حملوں کے فوری خاتمے اور شہریوں کو خطرے میں نہ ڈالنے کا مطالبہ کرتا ہوں"۔

شام میں السويداء کے گورنر مصطفی البکور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "علاقے میں اسلحے کا پھیلاؤ امن کے لیے نقصان دہ ہے اور استحکام میں اضافہ نہیں کرتا۔ جب تک ریاستی اداروں پر حملے نہیں ہوتے، تب تک اندرون ملک سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کی کوئی ضرورت نہیں ہے"۔ البکور نے دروز مذہبی پیشوا شیخ حکمت الہجری سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ "زیادہ تر سیکیورٹی اہل کار مقامی شہری ہوں گے"۔ انھوں نے مزید کہا کہ شیخ الہجری نے حالیہ سیکیورٹی معاہدے کی تائید کی ہے، جو دروزی مذہبی شخصیات اور مقامی باشندوں کی جانب سے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ السويداء میں امن و امان قائم رکھا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں