تیزی سے بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال کے پیش نظر مصر نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ وہ قطر اور امریکا کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی کی بحالی کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا، اور ساتھ ہی انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بھی سرگرم رہے گا۔
ہفتے کے روز فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ سے ملاقات کے دوران مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے کہا کہ مصر، اسرائیل کی جانب سے اجتماعی سزا کے طور پر بھوک کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرنے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ غزہ میں ابتدائی بحالی اور تعمیر نو کا عمل، عرب اسلامی منصوبے کے تحت فوری طور پر شروع ہونا چاہیے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ مصر، اقوام متحدہ اور فلسطینی حکومت کے ساتھ مل کر ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے جس کا مقصد غزہ کی تعمیر نو ہے۔ انھوں نے اس موقع پر فلسطینی اتھارٹی کی مکمل حمایت اور اس کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کی تائید کا بھی اعلان کیا۔ ان کا اعلان فلسطینی صدر نے قاہرہ میں حالیہ غیر معمولی عرب سربراہی اجلاس میں کیا تھا۔
عبد العاطی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "اسرائیل-فلسطین" تنازع کا واحد حل یہی ہے کہ سنجیدہ سیاسی پیش رفت کے ذریعے دو ریاستی حل پر عمل درآمد کیا جائے، اس کے تحت 4 جون 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کا دار الحکومت مشرقی بیت المقدس ہو، تاکہ خطے میں پائے دار امن، استحکام اور سلامتی ممکن بنائی جا سکے۔
اس موقع پر فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ نے مصری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مصر نے ہمیشہ فلسطینی عوام اور ان کے لیے انصاف پر مبنی موقف کا ساتھ دیا ہے۔ انھوں نے غزہ میں جنگ بندی کی بحالی کے لیے مصر کی ثالثی، امداد کی فراہمی اور تعمیر نو کی کوششوں کی تعریف کی۔
گذشتہ روز ماسکو میں دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی پر فتح کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریبات کے دوران، مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور فلسطینی صدر محمود عباس کی ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر السیسی نے قضیہ فلسطین، غزہ میں جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی، اور غزہ کے عوام کے لیے امداد کی فراہمی میں مکمل مصری حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب اسرائیلی اخبار "ہآرتز" کے مطابق، ایک با خبر ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت تل ابیب پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس کا مقصد جنگ بندی کے ایک معاہدے تک پہنچنا ہے ، کیوں کہ صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے آئندہ دورے سے قبل یہ اقدام امریکا کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ نے اسرائیلی حکومت کو آگاہ کر دیا ہے کہ اگر وہ امریکا کے ساتھ مل کر جنگ بندی کی جانب قدم نہیں بڑھاتی، تو پھر اسے اکیلا چھوڑ دیا جائے گا۔
-
غزہ میں امداد کی تقسیم کا امریکی منصوبہ جبری نقل مکانی کے مترادف ہے: انروا
غزہ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) ...
مشرق وسطی -
غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے لیے ٹرمپ کا اسرائیل پر دباؤ ہے: ذرائع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے متوقع دورے سے قبل ان کی انتظامیہ غزہ کی پٹی ...
مشرق وسطی -
غزہ میں اسرائیلی حملے میں پانچ افراد ہلاک: امدادی کارکنان
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے ہفتے کے روز کہا کہ غزہ شہر میں ایک خیمے پر اسرائیلی ...
مشرق وسطی