امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے متوقع دورے سے قبل ان کی انتظامیہ غزہ کی پٹی میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
اسرائیلی اخبار "ہارٹز" کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ تل ابیب پر اپنے متوقع دورے سے قبل جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے سخت دباؤ ڈال رہی ہے۔
ذریعے نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ اس معاملے کو انتہائی اہم سمجھتی ہے اور تل ابیب کو مطلع کر دیا ہے کہ اگر وہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کی طرف نہیں بڑھتا ہے تو اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے گا۔ امریکی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکوف نے پیر کے روز واشنگٹن میں اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ کو بتایا کہ فوجی دباؤ یرغمالیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر برائے سٹریٹجک امور رون ڈرمر، جو امریکی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات اور رابطوں کے انچارج ہیں، نے اس معاملے پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ٹرمپ 13 مئی کو سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کا دورہ شروع کرنے والے ہیں۔
اس دوران اسرائیل غزہ میں اپنی کارروائی کو وسعت دینے کا اشارہ دے رہا ہے۔ اس متوقع کارروائی کو "عربات جدعون" کا نام دیا گیا ہے۔
اسرائیل کے منصوبے میں ٹرمپ کے متوقع دورے کے اختتام تک حماس کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں پوری پٹی پر قبضہ کرنا شامل ہے۔ اسرائیلی حکومت نے دسیوں ہزار ریزرو فوجیوں کو طلب کرکے آپریشن کی تیاری شروع کر دی ہے۔
-
غزہ کو امداد دینا ’بیوقوفی‘ اور ’غیراخلاقی‘ اقدام ہوگا: اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر
ایک طرف امریکہ غزہ کے لیے انسانی امداد کی نئی راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی فوج نے یمن سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا
اسرائیلی فوج نے آج جمعے کے روز اعلان میں بتایا ہے کہ یمن سے اسرائیل کی جانب ایک ...
مشرق وسطی -
غزہ میں کئی فریق امداد تقسیم کریں گے: اسرائیل میں امریکی سفیر کا اعلان
اسرائیلی ناکہ بندی کا شکار غزہ کی پٹی میں امداد کی تقسیم کے لیے ایک نئے ادارے کے ...
بين الاقوامى