ایف بی آئی، قطر کی جانب سے تلاش، شام میں 30 افراد کی باقیات دریافت
خیال ہے کہ یہ داعش کے ہاتھوں ہلاک ہوئے
پیر کو قطر کے ایک بیان کے مطابق شام کے ایک دور افتادہ قصبے سے قطری سرچ ٹیموں اور ایف بی آئی کی سربراہی میں تلاش کے دوران 30 افراد کی باقیات ملی ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ یہ داعش گروپ کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے۔
قطر کی داخلی سکیورٹی فورسز نے کہا، ایف بی آئی نے تلاش کی درخواست کی تھی اور فی الحال لوگوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ جاری ہیں۔ قطری ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسی کسے تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امدادی کارکنان اور صحافیوں سمیت درجنوں غیر ملکیوں کو داعش کے دہشت گردوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ انہوں نے نصف عشرے تک شام اور عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کیے رکھا تھا اور نام نہاد خلافت کا اعلان کیا تھا۔ داعش گروپ 2017 کے آخر میں اپنے زیرِ قبضہ بیشتر علاقے سے محروم ہو گیا اور 2019 میں اسے شکست خوردہ قرار دے دیا گیا۔
اس وقت سے اب تک شمالی شام میں درجنوں قبرستان اور اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں ان لوگوں کی باقیات اور لاشیں دفن ہیں جنہیں داعش نے گذشتہ برسوں میں اغوا کیا تھا۔
امریکی صحافی جیمز فولی اور سٹیون سوٹلوف کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کے کارکنان کیلا مولر اور پیٹر کیسگ داعش کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔
ایک برطانوی نامہ نگار جان کینٹلی کو 2012 میں فولی کے ساتھ اغوا کیا گیا تھا اور انہیں آخری بار 2016 میں انتہا پسند گروپ کی ایک پروپیگنڈا ویڈیو میں زندہ دیکھا گیا تھا۔
تلاش کی یہ کارروائی شام کی ترکی کے ساتھ شمالی سرحد کے قریب واقع قصبے دابق میں کی گئی۔
شام کے صدر بشار الاسد کے زیرِ قبضہ علاقوں میں بھی اجتماعی قبریں ملی ہیں۔ الاسد نے اپنی بدنام زمانہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو برسوں تک مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے استعمال کیا جن میں سے کئی لاپتہ ہو چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے 2021 میں اندازہ لگایا تھا کہ 2011 میں شروع ہونے والی بغاوت اور 13 سالہ خانہ جنگی کے دوران 130,000 سے زیادہ شامی باشندے اغوا اور لاپتہ ہو گئے۔