شام کا ارادہ بدل گیا، نئی کرنسی کی طباعت روس کے بجائے امارات اور جرمنی میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام اب اپنی نئی کرنسی روس کے بجائے متحدہ عرب امارات اور جرمنی میں طبع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جو خلیجی ممالک اور مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات میں تیزی سے بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بات تین ذرائع کی جانب سے بتائی گئی ہے۔

شام کی حکومت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات میں گہرائی کی ایک اور علامت کے طور پر دمشق نے جمعرات کے روز اماراتی کمپنی "ڈی پی ورلڈ" کے ساتھ طرطوس کی بندرگاہ کو ترقی دینے کے لیے ابتدائی طور پر 80 کروڑ ڈالر کا ایک معاہدہ طے کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منگل کو شام پر عائد امریکی پابندیاں اچانک ختم کرنے کے اعلان کے بعد کیا گیا۔

شام کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالقادر حصريہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ شام پر سے پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ ملک کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ اور نہایت اہم واقعہ ہے، جو شام کی معیشت کے مختلف پہلوؤں پر مثبت اثر ڈالے گا۔ انھوں نے اس کامیابی کے حصول میں سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے اہم کردار کی تعریف کی۔

العربیہ چینل کو دیے گئے خصوصی بیان میں انھوں نے واضح کیا کہ اس سے قبل عرب لیگ، یورپی یونین، کینیڈا اور امریکہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں نے شام کو عالمی مالیاتی نظام سے باہر کر دیا تھا، جس کا منفی اثر شام کے اندر اور باہر موجود شامی عوام کی زندگیوں پر پڑا۔ ان پابندیوں نے ملکی معیشت کی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا اور کئی اہم شعبوں کی ترقی کو روک دیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ پابندیوں کے خاتمے کے بعد شام اب مرکزی بینک کے بیرون ملک منجمد اثاثے اور رقوم واپس حاصل کر سکے گا۔ اس سے بینکاری کے شعبے میں جامع اصلاحات کی راہ ہموار ہو گی، اور عالمی مالیاتی نظام "سوئفٹ" کی بحالی ممکن ہو گی۔ یہ پیش رفت برآمدات کو آسان بنائے گی اور درآمد شدہ اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا باعث بنے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں