بغداد: انتونیو گوتریس کی غزہ میں "مستقل جنگ بندی کی اپیل"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں "مستقل جنگ بندی" کی اپیل کی ہے۔ یہ اپیل اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر "شدید حملوں" اور "لڑائی کو وسعت دینے" کے اعلان کے کچھ ہی گھنٹوں بعد سامنے آئی۔

گوتریس نے عراقی دار الحکومت بغداد میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا "ہمیں اب ایک مستقل جنگ بندی کی ضرورت ہے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ "میں ان اطلاعات پر سخت تشویش میں مبتلا ہوں جن میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل زمینی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے"۔

گوتریس نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ "لبنان کی خود مختاری کا احترام کیا جانا چاہیے، ہم اس بات کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ لبنانی حکام نے اسلحہ صرف ریاست کے ہاتھ میں رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے"۔

گوتریس نے کہا کہ "ہم شام میں ایک سیاسی عمل کی حمایت کرتے ہیں جو خود شامیوں کی قیادت میں ہو، اور ہم شام پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں"۔

ان کا کہنا تھا کہ سوڈان میں جاری تشدد کا خاتمہ ضروری ہے، اور ہم قحط اور اجتماعی ہجرت کا سدباب چاہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے بتایا کہ "ہم لیبیا میں فریقین سے رابطے میں ہیں تاکہ مسلح تنازعات کا خاتمہ ہو، اور لیبیا میں جمہوری انتخابات کا انعقاد ضروری ہے"۔

آج ہفتے کے روز عراقی دار الحکومت بغداد میں عرب لیگ کا چونتیسواں معمول کا سربراہی اجلاس شروع ہوا۔ اجلاس کا انعقاد گرین زون میں واقع حکومتی عمارت میں کیا گیا۔ اجلاس میں متعدد سربراہانِ مملکت، امرا اور عرب ممالک کے نمائندے شریک ہیں۔

اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط، اسلامی تعاون تنظیم، خلیج تعاون کونسل، یورپی یونین اور ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز بھی شریک ہیں۔

یاد رہے کہ تقریبا دو ماہ قبل قاہرہ میں عرب لیگ کا ایک غیر معمولی سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس میں عرب ممالک نے غزہ کی دوبارہ تعمیر اور وہاں کے شہریوں کو بے دخل نہ کرنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size