عرب سمٹ

عرب لیگ سربراہ کانفرنس میں غزہ جنگ اور علاقائی مسائل ایجنڈے پر سرفہرست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

عراق کے دارالحکومت بغداد میں جمعہ کے روز عرب لیگ کے 34 ویں سربراہ اجلاس کا آغاز ہوا۔ اجلاس میں عرب رہنما اور حکام گرین زون میں واقع سرکاری عمارت میں شریک ہوئے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز بھی اجلاس میں موجود ہیں۔

عراقی صدر عبداللطیف رشید نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ عرب سربراہ کانفرنس انتہائی پیچیدہ حالات اور سنگین چیلنجز میں منعقد ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جنگ کا سایہ خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

عرب سمٹ کے افتتاح کے مناظر۔ العربیہ
عرب سمٹ کے افتتاح کے مناظر۔ العربیہ

عراقی صدر نے ڈکٹیشن اور بیرونی مداخلت کی پالیسیوں اور طاقت کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے اختلافات کے حل کے لیے سیاسی حل اور قومی مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔ عراقی صدر نے کسی بھی حالت یا نام کے تحت غزہ کے باشندوں کی نقل مکانی کو مسترد کرنے کے اپے موقف کا اعادہ کیا۔

عراقی وزیر اعظم شیاع السوڈانی کی تقریر۔ [العربیہ]
عراقی وزیر اعظم شیاع السوڈانی کی تقریر۔ [العربیہ]

دوسری جانب عراقی وزیر اعظم محمد شیاع سوڈانی نے اپنے ملک کی جانب سے دہشت گردی کی تمام اقسام سے نمٹنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے انروا کے کردار کو فعال کرنے اور غزہ میں امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے لبنان کی خودمختاری کی بار بار خلاف ورزیوں کی مذمت بھی کی۔ عراقی وزیر اعظم نے شام پر امریکی پابندیاں ہٹانے کے فیصلے کو سراہا اور شام میں ایک ایسا آئینی نظام بنانے کی حمایت کی جس میں تمام شامی شامل ہوں۔ عراقی وزیر اعظم نے مشترکہ عرب عمل کو فعال کرنے کے لیے 18 اقدامات کا اعلان کیا۔

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچز نے غزہ پر انسانی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کرنے کے اپنے ملک کے ارادے کا اعلان کیا اور کہا غزہ میں تشدد کے چکر کو روکنا ہوگا۔ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ اور ناقابل قبول ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ سانچز نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہوئے دو ریاستی حل کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا اور دو ریاستی حل کے لیے سعودی عرب اور فرانس کی سربراہی میں ہونے والی امن کانفرنس کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے بغداد سربراہ کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران غزہ میں "فوری اور مستقل جنگ بندی" کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی پر جنگ کو پھیلانے کے لیے شدید حملے شروع کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔

یاد رہے سربراہ کانفرنس قاہرہ میں مارچ میں ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد منعقد ہو رہی ہے جس میں عرب رہنماؤں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ کے باشندوں کو بے گھر کرنے اور پٹی کو واشنگٹن کے کنٹرول میں دینے کی تجویز کا متبادل تھا۔

بغداد 34 ویں عرب لیگ سربراہ کانفرنس کی میزبانی ایسے حالات میں کر رہا ہے جب غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں اور انسانی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ عراق کے دارالحکومت کی سڑکوں کو 22 عرب ممالک کے پرچموں سے سجایا گیا ہے۔ یہ شہر ملک کے دیگر شہروں کی طرح چار دہائیوں کے تنازعات اور جنگوں کے بعد نسبتاً کچھ پرسکون ہے۔

عرب سربراہی اجلاس میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط کی تقریر سے - العربیہ

یہ سربراہ کانفرنس ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب کئی علاقائی تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔ احمد الشرع کی سربراہی میں شامی حکام عرب اور مغرب کے ساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ غزہ میں جنگ جاری ہے۔ امریکہ اور ایران میں ایٹمی مذاکرات چل رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں