عراق کے دارالحکومت بغداد میں جمعہ کے روز عرب لیگ کے 34 ویں سربراہ اجلاس کا آغاز ہوا۔ اجلاس میں عرب رہنما اور حکام گرین زون میں واقع سرکاری عمارت میں شریک ہوئے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز بھی اجلاس میں موجود ہیں۔
عراقی صدر عبداللطیف رشید نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ عرب سربراہ کانفرنس انتہائی پیچیدہ حالات اور سنگین چیلنجز میں منعقد ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جنگ کا سایہ خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
عراقی صدر نے ڈکٹیشن اور بیرونی مداخلت کی پالیسیوں اور طاقت کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے اختلافات کے حل کے لیے سیاسی حل اور قومی مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔ عراقی صدر نے کسی بھی حالت یا نام کے تحت غزہ کے باشندوں کی نقل مکانی کو مسترد کرنے کے اپے موقف کا اعادہ کیا۔
دوسری جانب عراقی وزیر اعظم محمد شیاع سوڈانی نے اپنے ملک کی جانب سے دہشت گردی کی تمام اقسام سے نمٹنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے انروا کے کردار کو فعال کرنے اور غزہ میں امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے لبنان کی خودمختاری کی بار بار خلاف ورزیوں کی مذمت بھی کی۔ عراقی وزیر اعظم نے شام پر امریکی پابندیاں ہٹانے کے فیصلے کو سراہا اور شام میں ایک ایسا آئینی نظام بنانے کی حمایت کی جس میں تمام شامی شامل ہوں۔ عراقی وزیر اعظم نے مشترکہ عرب عمل کو فعال کرنے کے لیے 18 اقدامات کا اعلان کیا۔
رئيس وزراء #العراق: لن نبخل بأي جهد لدعم #سوريا#قناة_العربية pic.twitter.com/gC2ZRJzxai
— العربية (@AlArabiya) May 17, 2025
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچز نے غزہ پر انسانی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کرنے کے اپنے ملک کے ارادے کا اعلان کیا اور کہا غزہ میں تشدد کے چکر کو روکنا ہوگا۔ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ اور ناقابل قبول ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ سانچز نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہوئے دو ریاستی حل کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا اور دو ریاستی حل کے لیے سعودی عرب اور فرانس کی سربراہی میں ہونے والی امن کانفرنس کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔
رئيس وزراء #إسبانيا: سنقدم مشروع قرار للأمم المتحدة لإنهاء الحصار الإنساني على #غزة#قناة_العربية pic.twitter.com/MsS54XLpPr
— العربية (@AlArabiya) May 17, 2025
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے بغداد سربراہ کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران غزہ میں "فوری اور مستقل جنگ بندی" کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی پر جنگ کو پھیلانے کے لیے شدید حملے شروع کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔
غوتيريش: نريد وقف المجاعة والتهجير الجماعي في السودان #قناة_العربية pic.twitter.com/hIfvPAAti3
— العربية (@AlArabiya) May 17, 2025
یاد رہے سربراہ کانفرنس قاہرہ میں مارچ میں ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد منعقد ہو رہی ہے جس میں عرب رہنماؤں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ کے باشندوں کو بے گھر کرنے اور پٹی کو واشنگٹن کے کنٹرول میں دینے کی تجویز کا متبادل تھا۔
بغداد 34 ویں عرب لیگ سربراہ کانفرنس کی میزبانی ایسے حالات میں کر رہا ہے جب غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں اور انسانی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ عراق کے دارالحکومت کی سڑکوں کو 22 عرب ممالک کے پرچموں سے سجایا گیا ہے۔ یہ شہر ملک کے دیگر شہروں کی طرح چار دہائیوں کے تنازعات اور جنگوں کے بعد نسبتاً کچھ پرسکون ہے۔
یہ سربراہ کانفرنس ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب کئی علاقائی تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔ احمد الشرع کی سربراہی میں شامی حکام عرب اور مغرب کے ساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ غزہ میں جنگ جاری ہے۔ امریکہ اور ایران میں ایٹمی مذاکرات چل رہے ہیں۔
-
شامی صدر احمد الشرع عرب لیگ سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے:ذرائع
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شام کے عبوری صدر احمد الشرع عراق میں ہونے والے عرب لیگ کے ...
مشرق وسطی -
عرب لیگ کا بغداد اجلاس عرب یکجہتی اور استحکام کو مضبوط کرے گا: سیکرٹری جنرل
ولی عہد کویت شیخ صباح خالد الحمد الصباح نے بیان پیلس میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل ...
بين الاقوامى -
بغداد سربراہی اجلاس میں احمد الشرع کی شرکت کی تصدیق نہیں ہوئی : عرب لیگ
عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے واضح کیا ہے کہ شام کی صدارت کی جانب سے ...
مشرق وسطی