اردن کی جانب سے غزہ کے یورپی ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی مذمت

ہسپتال غیر فعال، کم از کم 28 افراد کی اموات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اردن نے جمعہ کے روز خان یونس میں یورپی ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی جس کے نتیجے میں ہسپتال غیر فعال ہو گیا اور کم از کم 28 افراد کی اموات واقع ہوئی۔

وزارت برائے امورِ خارجہ و تارکینِ وطن نے اس حملے کو بین الاقوامی انسانی قانون، بین الاقوامی قانونی اصولوں اور بوقتِ جنگ شہریوں کے تحفظ سے متعلق 1949 کے جنیوا کنونشن کی "صریح خلاف ورزی" قرار دیا۔

وزارت کے ترجمان سفیان القضاۃ نے غزہ میں جاری اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خلاف اردن کی سخت مخالفت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے عام شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کی مذمت کی اور اسرائیل پر فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کرنے کے لیے ناکہ بندی اور فاقہ کشی کے حربے استعمال کرنے کا الزام لگایا۔

القضاء نے علاقائی سلامتی اور استحکام پر اسرائیل کے اقدامات کے سنگین اثرات کے بارے میں بھی خبردار کیا۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ غزہ میں اپنی فوجی مہم ختم کرے، کھلی راہداریوں سے انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دے اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد ریاست کے قیام کا فلسطینیوں کا حق تسلیم کرے۔

حملے کے بعد برطانوی ڈاکٹر ٹام پوٹوکر نے ہسپتال کے اندر کی فوٹیج جاری کی جس کے بعد اس کی بین الاقوامی مذمت ہوئی۔

غزہ میں کام کرنے والے کنسلٹنٹ پلاسٹک سرجن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال پر چھے بم حملے ہوئے جس کے نتیجے میں یہ "مکمل تباہ" ہو گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size