فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں اپنی ذمے داریاں سنبھالنے کا اختیار دیا جانا چاہیے : محمود عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فلسطینی صدر محمود عباس نے زور دے کر کہا ہے کہ "حماس کو غزہ پر اپنی حکمرانی اور اسلحہ چھوڑ دینا چاہیے"۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاستِ فلسطین کو اس تباہ حال علاقے کی ذمے داری سنبھالنے دی جائے۔

وہ آج ہفتے کے روز عراقی دار الحکومت بغداد میں عرب لیگ کے 34 ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر عباس نے کہا "فلسطینی مسئلہ وجودی خطرات سے دوچار ہے"۔ انھوں نے غزہ میں ہونے والی تباہی کو "نسل کشی" اور مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر کو "نو آبادیاتی منصوبہ" قرار دیا۔

فلسطینی صدر کے مطابق حماس کو غزہ پر اپنی گرفت ختم کرنی چاہیے اور اسلحہ فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنا چاہیے۔" انھوں نے تمام قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں مستقل جنگ بندی کی اپیل بھی کی۔

محمود عباس نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستِ فلسطین کو غزہ میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا اختیار دیا جانا چاہیے،حماس اور تمام جماعتوں کو اپنا اسلحہ ریاست کے حوالے کر دینا چاہیے۔

صدر محمود عباس نے یہ بھی اعلان کیا کہ فلسطینی اتھارٹی آئندہ برس صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ "ہم ریاستی اداروں میں اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔"

فلسطینی صدر نے عرب ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ اپنائیں، جس میں مستقل جنگ بندی، تمام قیدیوں کی رہائی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، اور اسرائیلی افواج کا غزہ سے مکمل انخلا شامل ہو۔

عباس نے واضح کیا کہ اس منصوبے میں یہ بھی شامل ہو کہ ریاستِ فلسطین کو غزہ میں شہری و سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالنے دی جائیں، حماس اپنی حکمرانی ترک کرے، تمام گروہ اپنا اسلحہ قانونی اتھارٹی کے حوالے کریں، اور فلسطینی سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ بنیادوں پر از سر نو تشکیل کی جائے، جس میں عرب اور عالمی مدد شامل ہو۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ سال کے دوران صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ضروری ہے، اور فلسطینی اتحاد کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، اس بنیاد پر کہ فلسطین کی واحد نمائندہ تنظیم "تنظیم آزادی فلسطین (PLO)" ہے، اور ریاست میں صرف ایک ہی قانونی اسلحہ ہونا چاہیے۔

عباس نے قاہرہ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کا مطالبہ بھی کیا، تاکہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جائیں، ایک جامع جنگ بندی قائم کی جائے، اسرائیلی یک طرفہ اقدامات کو روکا جائے، اور ایک ایسے سیاسی عمل کا آغاز و اختتام ہو جو طے شدہ مدت میں دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کے قیام اور اس کے عالمی سطح پر اعتراف کو ممکن بنائے، جیسا کہ بین الاقوامی قراردادوں اور عرب امن منصوبے میں ذکر کیا گیا ہے۔

اس سے قبل آج بغداد میں عرب لیگ کا چونتیسواں سربراہی اجلاس شروع ہوا، جس کا مرکزی موضوع غزہ کی صورت حال ہے۔ یاد رہے کہ دو ماہ قبل قاہرہ میں منعقدہ غیر معمولی کانفرنس میں عرب ممالک نے ایک مشترکہ منصوبے کے ذریعے غزہ کی تعمیرِ نو کا عزم کیا تھا، جس میں اس کے باسیوں کی جبری نقل مکانی کی مخالفت کی گئی تھی۔

اسی ضمن میں عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے بھی اعلان کیا کہ ان کا ملک غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 2 کروڑ ڈالر اور لبنان کے لیے بھی اتنی ہی رقم فراہم کرے گا۔ انھوں نے کہا "ہم نے بارہا سنجیدہ اور ذمے دار عرب اقدام کی اپیل کی ہے تاکہ غزہ کو بچایا جا سکے، اور اقوام متحدہ کی ایجنسی 'انروا' کے کردار کو غزہ اور مغربی کنارے میں دوبارہ مؤثر بنایا جا سکے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں