عرب سمٹ

غزہ میں انسانی محاصرے کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ میں قرار داد پیش کریں گے: سپین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک غزہ پر عائد اسرائیلی محاصرے کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سانچیز کا کہنا ہے کہ "غزہ میں تشدد کے اس چکر کو روکنا ضروری ہے"۔

سانچیز آج ہفتے کے روز بغداد میں عرب لیگ کے 34 ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انھوں نے زور دے کر کہا کہ "غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ اور ناقابلِ قبول ہے ... یہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے"۔

سانچیز نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہوئے دو ریاستی حل کی حمایت کا مطالبہ کیا، اور اس ضمن میں سعودی عرب اور فرانس کے زیر صدارت منعقدہ امن کانفرنس کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔ انھوں نے زور دیا کہ "اسرائیل پر غزہ میں قتلِ عام روکنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔"

عراقی دار الحکومت بغداد میں آج ہفتے کو عرب لیگ کے چونتیس ویں سربراہی اجلاس کا آغاز ہوا جو گرین زون میں واقع حکومتی عمارت میں منعقد ہو رہا ہے۔

اجلاس میں عرب ممالک کے قائدین اور اعلیٰ حکام کے علاوہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز بھی شریک ہیں۔

اس موقع پر عراقی صدر عبد اللطیف رشید نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ یہ سربراہی اجلاس انتہائی پیچیدہ حالات اور خطرناک چیلنجوں کے بیچ ہو رہا ہے، اور علاقے کا امن و استحکام جنگ کے خطرات سے دوچار ہے۔ انھوں نے ایک بار پھر اس موقف کا اعادہ کیا کہ کسی بھی صورت یا عنوان کے تحت غزہ کے باشندوں کی جبری نقل مکانی ناقابلِ قبول ہے۔

عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے دہشت گردی کے تمام مظاہر کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے اپنے ملک کے عزم کا اظہار کیا۔ انھوں نے غزہ تک امداد کی فراہمی اور اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی انروا کے کردار کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی انھوں نے لبنان کی خود مختاری کی بار بار ہونے والی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔

عراقی وزیر اعظم نے عرب دنیا میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے 18 تجاویز پر مشتمل ایک منصوبہ بھی پیش کیا۔

یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں قاہرہ میں عرب لیگ کا ایک ہنگامی سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس میں عرب رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس منصوبے کے برخلاف غزہ کی تعمیرِ نو کی حمایت کی تھی جس میں غزہ کے باسیوں کو جبری طور پر بے دخل کر کے اس علاقے کو واشنگٹن کے زیرِ انتظام دینے کی تجویز دی گئی تھی۔

یہ چونتیسواں سربراہ اجلاس غزہ پر اسرائیلی بم باری کے تسلسل، سنگین انسانی بحران، اور امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ خلیجی دورے کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔ ادھر شام کے صدر احمد الشرع عرب اور مغربی دنیا سے تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور امریکا و ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں