شرق اوسط

ہمارا ایک منصوبہ ہے، بیت حانون اور خان یونس میں غزہ کی لڑائی کا فیصلہ کر دیں گے: اسرائیل

غزہ پر فضائی حملوں میں مزید 55 افراد کی اموات، ہم خان یونس میں انفراسٹرکچر کو اس طرح تباہ کر رہے دوبارہ حماس استعمال نہ کرسکے: اسرائیلی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

اسرائیلی چیف آف سٹاف ایال زامیر نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ غیر معینہ مدت تک نہیں چلے گی۔ ہمارے پاس غزہ میں ایک منظم منصوبہ ہے اور ہم بیت حانون اور خان یونس میں جنگ کا فیصلہ کر دیں گے۔ جب ہم اپنے فوجی مقاصد حاصل کر لیں گے تو میں کہوں گا کہ حماس کو شکست ہو چکی ہے۔

اس سے قبل ایک فوجی عہدیدار نے ہفتے کے روز اسرائیلی ویب سائٹ ’’والا‘‘ کو کہا تھا کہ اسرائیلی افواج نے خان یونس شہر کے کچھ حصوں کو کنٹرول کرنے میں مزید پیش رفت کی ہے۔

فوجی ذرائع کے مطابق شہر کا بیشتر حصہ شہریوں سے خالی ہے۔ فوج نہ صرف علاقے کو کنٹرول کر رہی ہے بلکہ منظم طریقے سے انفراسٹرکچر کو بھی تباہ کر رہی ہے تاکہ اسے دوبارہ عسکریت پسند استعمال نہ کر سکیں۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل خان یونس کے محلوں کو خالی کرانے کے لیے اپنے شدید ترین فضائی حملے کر رہا ہے۔ خان یونس کا المواصی کا علاقہ بمباری کی وجہ سے تقریباً خالی ہو گیا ہے۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی پٹی میں طبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ پٹی کے مختلف علاقوں میں وحشیانہ اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 55 فلسطینی جان سے گئے۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کی پٹی میں بمباری اور رہائشی مکانات کو مسمار کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔

"العربیہ" کے نمائندے نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں رہائشی گھروں پر بم باری میں شدت پیدا کر دی ہے۔

گھروں پر شدید بمباری

مقامی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی افواج نے جمعہ کی شام سے ہفتے کی صبح تک کم از کم بائیس گھروں کو نشانہ بنایا، جس کے ساتھ ہی انڈونیشی اسپتال کے گرد، السلاطین اور تل الزعتر کے علاقوں کے اطراف اور جبالیہ شہر میں زمینی کارروائیوں میں وسعت آئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی فوج نے ان علاقوں کے رہائشیوں کو گھر خالی کرنے کا حکم دیا۔ مبصرین اسے ایک نئی زمینی کارروائی کی تیاری قرار دے رہے ہیں، جیسا کہ اس سے قبل رفح شہر کی موراج راہ داری میں کیا گیا تھا۔

اسی تناظر میں، جنوبی غزہ کے شہروں خان یونس اور رفح میں اسرائیلی توپ خانے کی بم باری میں شدت آئی ہے، جہاں خزاعہ اور عبسان میں تعینات توپ خانوں نے القرارة قصبے اور حمد ٹاورز کے اطراف گولہ باری کی۔

طبی اہل کاروں کے مطابق، اسرائیلی افواج نے ان علاقوں میں بم باری میں شدت پیدا کی ہے، جب کہ مشرقی خان یونس میں گذشتہ دو ہفتوں سے زمینی در اندازی جاری ہے، جو فضائیہ اور ڈرون حملوں کی نگرانی میں کی جا رہی ہے۔ اس دوران نقل مکانی کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسرائیلی فوجی کارروائیاں اقوامِ متحدہ کی ان تنبیہات کے باوجود جاری ہیں جن میں غزہ میں انسانی صورت حال کی بگڑتی حالت اور انفرا اسٹرکچر و رہائشی علاقوں پر مسلسل حملوں کے باعث بحران کے مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اس دوران، اسرائیل نے جمعے کے روز حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی جنگ بندی تجویز قبول کرے اور یرغمالیوں کو رہا کرے، ورنہ اس کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ جنگ بندی کا معاہدہ "انتہائی قریب" ہے۔

بحران کے سبب بین الاقوامی دبائو

غزہ میں انسانی بحران کے باعث اسرائیل پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ماہ کے سخت محاصرے کے بعد جو امداد دی جا رہی ہے وہ نا کافی ہے اور سمندر میں ایک قطرے کے برابر بھی نہیں۔

تقریباً 20 ماہ سے جاری اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔ بالخصوص جب اسرائیل نے مارچ میں مختصر جنگ بندی کے بعد دوبارہ حملے شروع کیے۔

جمعے کی شام، اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے بیان میں کہا کہ فوج اپنی کارروائیاں "پوری شدت سے" جاری رکھے گی اور "تمام لڑائی والے علاقوں سے مقامی شہریوں کا انخلا" بھی ساتھ ساتھ کیا جائے گا۔

کاتز نے مزید کہا کہ حماس کو اب انتخاب کرنا ہے "یا تو وہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے پیش کردہ معاہدے کو قبول کرے، یا خود کو تباہ کر والے"۔

یہ اس جنگ بندی تجویز کا حوالہ تھا جو امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے دی ہے اور جس پر حماس نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا "وہ غزہ پر معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں"۔

غزہ دنیا میں زیادہ بھوک سے بھری جگہ

اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر کے ترجمان ینس لائرکے نے خبردار کیا کہ "غزہ دنیا کی سب سے زیادہ بھوکی جگہ ہے، جہاں سو فی صد آبادی قحط کے خطرے سے دوچار ہے"۔

جمعے کی شام، اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوژارک نے بتایا کہ "ایک مسلح گروہ نے دیر البلح میں ایک فیلڈ اسپتال کے گوداموں پر حملہ کر کے بچوں کے لیے مخصوص طبی سازوسامان، ادویات اور غذائی سپلیمنٹس کی بڑی مقدار لوٹ لی"، یہ امداد جمعرات کو کرم ابو سالم کراسنگ سے پہنچی تھی۔

اسرائیل نے 18 مارچ کو چھ ہفتے کی جنگ بندی کے بعد دوبارہ غزہ پر حملے شروع کیے اور 17 مئی سے اپنی کارروائیوں میں شدت لے آیا۔ اس کا موقف ہے کہ کارروائیوں کا مقصد حماس کا خاتمہ اور یرغمالیوں کی رہائی ہے۔

امریکہ کی جنگ بندی تجویز

وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کی ایک نئی امریکی تجویز سے اتفاق کر لیا ہے، لیکن حماس نے کہا کہ یہ تجویز "ہمارے عوام کے مطالبات کا کوئی جواب نہیں دیتی"۔

حماس کے قریبی ذرائع نے کہا کہ تنظیم کو افسوس ہے کہ اس تجویز میں مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔
تاہم، جمعے کو حماس نے واضح کیا کہ وہ "فلسطینی قوتوں اور تنظیموں کے ساتھ امریکی ایلچی وٹکوف کی بھیجی گئی تجویز پر مشاورت کر رہی ہے"۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، 18 مارچ سے اسرائیلی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کے بعد اب تک کم از کم 4058 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس طرح 7 اکتوبر 2023 سے اب تک جنگ میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 54,321 ہو چکی ہے، جن میں زیادہ تر عام شہری، عورتیں اور بچے شامل ہیں۔

یاد رہے کہ حماس کے حملے میں اسرائیلی جانب 1218 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ 251 افراد کو اغوا کیا گیا، جن میں سے اب بھی 57 افراد غزہ میں موجود ہیں۔ اسرائیلی فوج ان میں سے کم از کم 34 کے مارے جانے کی تصدیق کر چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں